تحریک انصاف ٹکٹ کیلئے امیدواروں کے انٹرویوز کے دوران پارٹی قائدین کی آپس میں تلخ کلامی

چھپ کر ویڈیو بنانے پر خاتون ضلع کونسلر اور زرگل خان کی گاڑی پر کارکنوں نے حملہ کر دیا

پیر مئی 15:36

ایبٹ آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) تحریک انصاف ٹکٹ کیلئے امیدواروں کے انٹرویوز کے دوران پارٹی قائدین کی آپس میں تلخ کلامی دیکھنے میں آئی۔ چھپ کر ویڈیو بنانے والی خاتون ضلع کونسلر اور زرگل خان کی گاڑی پر بھی کارکنوں نے حملہ کیا۔ پی ٹی آئی ہزارہ ریجن کے صدر زرگل خان اور پشاور کی ٹیم نے ایبٹ آباد سے ٹکٹوں کے خواہشمند امیدواروں سے انٹرویو لینا تھے۔

انٹرویو کے سلسلہ میں بھی امیدواروں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا۔ ایبٹ آباد کے اراکین اسمبلی کے انٹرویو خیبر پختونخوا ہائوس میں لئے گئے جبکہ ٹکٹ کے امیدوار کارکنوں کے انٹرویو پی ٹی آئی کے سیکرٹریٹ میں رکھے گئے۔ زرگل خان کی قیادت میں ٹیم نے پہلے اراکین اسمبلی کے انٹرویو لئے جس کے بعد یہ لوگ پی ٹی آئی کے سیکرٹریٹ پہنچے جہاں تحصیل ناظم اسحاق سلیمانی، سجاد اکبر، سردار غلام مصطفی، ملک عابد ایڈوکیٹ، آصف زبیر شیخ اور سجاد اکبرخان کے علاوہ دیگر حلقوں کے امیدوار موجود تھے۔

(جاری ہے)

انٹرویو کے اختتام پر آصف زبیر شیخ نے زرگل خان پر سرعام الزام لگایاکہ آپ صوبائی وزیر مشتاق غنی سے پیسے لیکر سازش کر رہے ہیں جس پر زرگل خان طیش میں آ گئے اور انہوں نے آصف زبیر شیخ کو بے بنیاد الزام عائد کرنے پر کھری کھری سنا دیں۔ دونوں رہنما ایک دوسرے کے خلاف زبان درازی کرتے رہے۔ اس دوران خاتون ممبر ضلع کونسل ایک گاڑی میں چھپ کر ویڈیو بنا رہی تھیں کہ زرگل خان کے آدمیوں نے موصوفہ پر تشدد کر کے موبائل فون چھین لیا۔

خاتون پر تشددکی وجہ سے پی ٹی آئی کے کارکنوں نے زرگل خان کے آدمیوں پر حملہ کر دیا اور زرگل خان بمشکل جان بچا کربھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ صحافیوں سے بات چیت کے دوران کارکنوں نے کہا کہ ان کے ساتھ ٹکٹوں کے معاملہ میں امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں۔