قومی صحت کے ادارہ کو بدلنا بھی میرا مشن تھا ،ْسائرہ افضل تارڑ

پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں اور اپنے عوام کی خدمت کرنے میں کامیاب ہوں گے ،ْوفاقی وزیر کا بیان

پیر مئی 22:20

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) وفاقی وزیر نیشنل ہیلتھ سروسز،ریگولیشن اینڈ کوارڈینیشن سائرہ افضل تارڑ نے کہا ہے کہ قومی صحت کے ادارہ کو بدلنا بھی میرا مشن تھا ۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ قومی صحت کے ادارہ کو بدلنا بھی میرا مشن تھا تا کہ یہ قومی اور بین الاقوامی سطح کے اپنے کردار کے حصول میں کامیاب رہے ۔ این آئی ایچ قومی اثاثہ ہے اور اس میں بے پناہ صلاحیتیں ہیں۔

مجھے پورا یقین ہے کہ ہم پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں اور اپنے عوام کی خدمت کرنے میں کامیاب ہوں گے ۔ ہمارے بڑے اہداف میں سے ایک ہدف این آئی ایچ میں خسرہ کی ویکسین کی تیاری کی دوبارہ بحالی تھا بیماری کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ملک کے مختلف حصوں میں وبائوں کے تناظر میں یہ بڑا اہم اور نازک کام تھا ۔

(جاری ہے)

ہم ٹھوس اجتماعی کوشش سے اس مقصد کو بھی پورا کرنے میں کامیاب رہے ۔

سائرہ افضل تارڑ نے کہا ایک اور بڑا مسئلہ لیبارٹری کی سہولیات کی اپ گریڈیشن تھا اور ایک ایسا کام تھا جو کہ کامیابی سے کیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بی ایس ایل 3لیبارٹری کا عالمی معیارات کے مطابق قیام عمل میں لایا گیا۔ آج اس انسٹی ٹیوٹ میں عالمی ضوابط اور عالمی صحت تحفظ ایجنڈا کے مطابق رہنما اصولوں پر 5سال سے کامیابی سے عمل درآمد جاری و ساری ہے ۔

اور ملک میں بیماریوں کی نگرانی اور بر وقت کارروائی کے مربوط نظام پر عملدر آمد جاری ہے ۔وزیر قومی صحت نے کہا آج آپ جو نیشنل انسٹی ٹیوٹ ہیلتھ دیکھ رہے ہیں اس انسٹی ٹیوٹ سے مکمل طور پر مختلف ہے جو ہمیں 2013ء میں ملا تھا ۔ یہ ادارہ تنزلی کا شکار تھا اور شدید مالی بحران کے باعث اس کا معیار بھی گر رہا تھا جب کہ اس ادارہ کی بقاء بھی خطرہ میں تھی ۔

اسی طرح صحت کے دیگر شعبوں میں بھی ہم نے اس ادارہ کی ترقی کے شدید چیلنج کو قبول کیا اور آج مجھے بڑی خوشی ہے کہ ہم نے خود اپنے آپ سے اور عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کر دیا ۔ ہماری حکومت نے اداروں کو مضبوط بنایا ۔ انہیں کار آمد بنایا تا کہ ادارے عوام کا معیار زندگی موثر طور پر بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ ہم نے بڑا سفر طے کیا ہے اور اپنی بہترین صلاحیتوں سے عوام کی خدمت کی ہے جس کا اظہار صحت کے ہر شعبہ میں ہماری کارکردگی سے ہوتا ہے ہم اپنے عوام کے پاس واپس جا رہے ہیں اور صرف اپنی کارکردگی کی بنا پر ان کی حمایت حاصل کرنا چاہیں گے ۔

ہمارے راستے میں ان لوگوں کی طرف سے بڑی رکاوٹیں ڈالی گئیں جو نہیں چاہتے تھے کہ ہم اپنی کارکردگی دکھائیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ڈٹے رہے اور ہم نے اپنے عوام کی ترقی و خوشحالی کا اپنا مشن جاری رکھا۔

متعلقہ عنوان :