چمڑے کی صنعت کا شمار پاکستان کی برآمدکرنے والی مصنوعات میں دوسرے نمبر پرہے،افضال احمد

منگل مئی 16:56

چمڑے کی صنعت کا شمار پاکستان کی برآمدکرنے والی مصنوعات میں دوسرے نمبر ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) چمڑے کی صنعت کا شمار پاکستان کی برآمدکرنے والی مصنوعات میں دوسرے نمبر پرہے۔اس کی برآمدات سے پاکستان کو کثیر زر مبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی جامعہ اردو کے رجسٹرار افضال احمد نے پی سی ایس آئی آر کے لیدر ریسرچ سینٹر(PSCIR, LRC)کے مابین مفاہمتی یادداشت کی دستاویزات (MOU)پر دستخط کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے مزید کہاکہ جامعہ کے اساتذہ اور محققین ہمارا اثاثہ ہیںشعبہ خرد حیاتیات(مائکرو بائلوجی) کی یہ اہم کاوش ہے جس کی بدولت یہ معاہدہ طے پایا ہے۔ اعلی تعلیمی کمیشن بھی تحقیق کے لئے جامعہ کے شعبہ جات کو فنڈز فراہم کررہا ہے۔پی سی ایس آئی آر کے پاس جدید لیبارٹریز، آلات، کوالٹی اشورنس، کیمیکل، ماحولیات اور لیدر کے ماہرین موجود ہیںجن کے تعاون سے جامعہ کے محققین اپنی تحقیق کو تیزی سے مکمل کرسکتے ہیں۔

(جاری ہے)

اس وقت اعلی تعلیمی کمیشن کے بڑے تحقیقی منصوبوں میں سے تین شعبہ خرد حیاتیات کے پاس ہیں جو قابل تعریف بات ہے اسکے علاوہ اس سے شعبے کے اساتذہ کی تحقیق میںحد درجے دلچسپی بھی ظاہر ہوتی ہے۔ جامعہ کی انتظامیہ تحقیق کے ہر منصوبے کے لئے تمام شعبہ جات سے مکمل تعاون کررہی ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ تحقیق کو صنعت کے ساتھ مربوط کیا جاسکے۔

اس موقع پر پی سی ایس آئی آر کے لید ر ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حافظ رب نواز، تحقیقی پروجیکٹ کی فوکل پرسن ڈاکٹر مریم شفیق، ڈاکٹر نصرت جبیں، ڈاکٹر سحر افشاں ، اورک کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمدعابد، پی سی ایس آئی آر ،ایل آر سی کے نمائندے، ڈاکٹر کاشف احمد، فرخ نذیر، ڈاکٹر فرمان، ڈاکٹر کاشف پرویز اور برکت علی سولنگی بھی موجود تھے۔

ڈاکٹر حافظ رب نواز نے اس موقع پر کہا کہ پی سی ایس آئی آر نہ صرف تحقیق بلکہ جامعہ اردو کے صنعت سے روابط میں بھی تعاون کرے گی۔ اس وقت لیدر میں انزائم کی پروڈکشن اور ایپلیکیشن پر کام کرنے کی ضرورت ہے جامعہ اردو کا شعبہ خرد حیاتیات اس ضمن میں کافی سالوں سے کام کررہا ہے۔ اس صنعت کا مستقبل بہت روشن ہے اگر جامعہ کو سہولتیں میسر ہوں تو انزائم کی بڑی سطح پر پروڈکشن شروع ہوسکتی ہے جس سے ملک میں لیدر کی صنعت مزید پروان چڑہے گی۔

شعبہ خرد حیاتیات کی محقق ڈاکٹر مریم شفیق نے کہا کہ پی سی ایس آئی آر کا تعاون اس تحقیق میں بہت اہمیت کا حامل ہے اس کے علاوہ ایچ ای سی اور انتظامیہ کے تعاون کے بغیر بھی اس تحقیق کو آگے بڑہانا ممکن نہیں جس کے لئے وہ ان سب کی نہایت ممنون و مشکور ہیں۔

متعلقہ عنوان :