قصور ریلی میں عدلیہ مخالف نعرے بازی کیس،دو ملزموں نے تحریری معافی نامہ ہائیکورٹ میں جمع کرا دیا

ناصر خان ،جمیل خان نے تحریری معافی نامے میں املاک کے علاوہ دیگر نوعیت کی غلطیاں ہیں‘ درخواست گزار کے اعتراض پر فاضل عدالت نے معافی نامہ واپس کر دیا ، تصحیح کر کے دوبارہ داخل کرانے کی ہدایت کوئی سمجھتا ہے معاملے کو لٹکا دیگا تو اسکی غلط فہمی ہے،وکلاء قابل احترام ،ادارے کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھنا سب کی ذمہ داری ہے‘ریمارکس

منگل مئی 17:32

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) قصور میں عدلیہ مخالف ریلی اور نعرے بازی کے کیس میں دو ملزموں نے تحریری معافی نامہ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرا دیا، عدالت نے غلطیوں کے باعث تصحیح کر کے دوبارہ داخل کرانے کا حکم دیدیا۔گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے قصور بار کے صدر نسیم مرزا کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی شیخ وسیم اختر، رکن پنجاب اسمبلی نعیم صفدر سمیت 6 ملزم پیش ہوئے۔درخواست گزاروں کے وکیل نے بتایا کہ قصور میں اراکین اسمبلی نے عدلیہ مخالف ریلی نکال کر اپنے حلف کی خلاف ورزی کی،ملزمان عدلیہ مخالف نعرے بازی کر کے توہین عدالت کے مرتکب ہوئے جس کی وجہ سے ملزمان کسی رعائت کے مستحق نہیں۔

(جاری ہے)

دوران سماعت دوملزمان ناصر خان اور جمیل خان نے عدالت سے تحریری طور پرمعافی مانگ لی۔

جس پر درخواست گزار کے وکیل نے نشاندہی کی کہ مقامی رہنما ناصر خان اور جمیل خان نے تحریری معافی نامے میں املاک کے علاوہ دیگر نوعیت کی غلطیاں ہیں، غیر مشروط معافی نامے میں اگر اور مگر کے الفاظ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ فل بنچ نے معافی نامہ میں غلطیوں کی نشاندہی پر اسے واپس کر دیا اور اسے تصحیح کر کے دوبارہ داخل کرانے کی ہدایت کی۔فاضل عدالت نے رکن پنجاب اسمبلی نعیم صفدر کی جانب سے رائے بشیر کے بطور وکیل پیش ہونے پر استفسار کیا کہ ایم پی اے کی جانب سے اور کتنے وکلاء نے پیش ہونا ہے،ملزم ایم پی اے کی طرف سے علی احمد کرد سمیت پہلے ہی دو وکلاء پیش ہو رہے ہیں،اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ معاملے کو لٹکا دے گا تو اس کی غلط فہمی ہے۔

عدالت نے کہا کہ وکلاء ہمارے لئے قابل احترام ہیں،ادارے کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھنا سب کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل 24مئی تک ملتوی کر دی۔