کراچی میں ہیٹ اسٹروک کے باعث 65 افراد کے جاں بحق ہونے پروسیم آفتاب کا اظہار افسوس

میئر کراچی اور سندھ حکومت کے خلاف فرائض سے غفلت پہ سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے

منگل مئی 23:42

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) پاک سر زمین پارٹی کے وائس چیئر مین وسیم آفتاب نے کراچی میں ہیٹ اسٹروک کے باعث 65 افراد کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ کراچی میں ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کیلئے موثر اقدامات نہ کرنے پر سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ دوسال قبل بھی کراچی میں ہیٹ اسٹروک کے باعث سینکڑوں شہری قیمتی جانیں گنوا بیٹھے تھے اور اس سال بھی کراچی میں شدید گرمی پڑنے اور ہیٹ اسٹروک کی پیشنگوئیوں کے باوجود حکومت سندھ کی جانب سے انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے کسی قسم کے اقدامات نہ کئے جانے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے ہر سطح پر مثبت اقدامات کرے اور ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کی آگاہی مہم فی الفور شروع کرے ا ور کراچی کے عوام کا احساس ہے تو وہ کے الیکٹرک کو گرمیوں میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا پابند کرے، اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک وارڈ قائم کرے، وہاں ادویات کی فراہمی یقینی بنائیں اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔

(جاری ہے)

انہو ں نے کہا کہ بلدیہ کراچی اور سندھ حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے قیمتی جانوں کا نقصان شہر کے لوگوں کو اٹھانا پڑ رہا ہیاپنی ناقص کارکردگی کو چھپانے کے لئے جانبحق افراد کی تعداد کو عوام سے چھپایا جارہا ہے فیصل ایدھی نے ایدھی سینٹر سے جو اموات کی تعداد بتائی ہے دراصل انہوں نے حقائق سے پردہ اٹھایا ہے اس صورتحال کے نتجے میں بلدیہ کراچی میئر کراچی اور سندھ حکومت کے خلاف فرائض سے غفلت برتنے کا مقدمہ درج کیاجائے انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ کراچی میں ہیٹ اسٹروک سے انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے فی الفور ہرسطح پر ٹھوس اور عملی اقدامات کئے جائیں۔