صدر مملکت کی تنخواہ میں 7 لاکھ 66 ہزار 5 سو روپے کا اضافہ

صدر مملکت ممنون حسین کی تنخواہ روس ، چین اور بنگلہ دیش کے سربراہوں سے بھی زیادہ

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات مئی 16:49

صدر مملکت کی تنخواہ میں 7 لاکھ 66 ہزار 5 سو روپے کا اضافہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 24 مئی 2018ء) : صدر مملکت ممنون حسین کی تنخواہ میں 7 لاکھ 66 ہزار اور 5 سو روپے کے اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیرا عظم شاہد خاقان عباسی کی ہدایت پر کابینہ ڈویژن نے صدر مملکت ممنون حسین کی تنخواہ میں 7 لاکھ 66 ہزار اور 5 سو روپے کے اضافے کا ترمیمی بل تیار کرلیا۔ جس کے بعد صدر مملکت ممنون حسین کی تنخواہ 8 لاکھ 46 ہزار 5 سو روپے ہو جائے گی۔

کابینہ کو وزیرا عظم شاہد خاقان عباسی نے ہی صدر مملکت کی تنخواہ میں اضافے کی سمری تیار کرنے کی ہدایت کی تھی جو کابینہ ڈویژن نے تیار کر لی اور سمری میں موقف اختیار کیا گیا کہ صدر کی تنخواہ میں اضافہ 75 کے ایکٹ میں ترمیم کے بعد بل تیار کر کے وفاقی کابینہ کے بل میں ترمیم کی منظوری کے بعد کیا گیا۔

(جاری ہے)

جس کے تحت صدر مملکت کی تنخواہ میں 7 لاکھ 66 ہزار اور 5 سو روپے کے اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

جبکہ آخری بار 2004ء میں صدر کی تنخواہ وفاقی حکومت نے 80 ہزار روپے مقرر کی تھی لیکن اب اضافے کے بعد ممنون حسین کی تنخواہ 8 لاکھ 46 ہزار 5 سو روپے ہو جائے گی جو کہ چیف جسٹس کی تنخواہ سے ایک روپیہ زیادہ ہے۔ واضح رہے کہ صدر مملکت کی تنخواہ اس وقت ملک کے کسی بھی سرکاری سربراہ کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ اور تو اور صدر مملکت ممنون حسین کی تنخواہ اس اضافے کے بعد روس ، چین اور بنگلہ دیش کے سربراہوں سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس وقت صدر مملکت ممنون حسین کو سالانہ ایک کروڑ 92 لاکھ روپے مل رہے ہیں۔ جس کے تحت ان کی ماہانہ تنخواہ 16 لاکھ روپے بنتی ہے۔ چین کے صدر ژی چنگ پن کو سالانہ صرف 21 لاکھ 65 ہزار 514 روپے ملتے ہیں، روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کی سالانہ تنخواہ ایک کروڑ 59 لاکھ 19 ہزار 547 روپے ہے۔ بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد کی سالانہ تنخواہ صدر پاکستان کی ماہانہ تنخواہ سے صرف ڈیڑھ لاکھ روپے زیادہ ہے۔ ترکی کے صدر طیب اردگان کی سالانہ تنخواہ ممنون حسین سے صرف ساڑھے چھ لاکھ روپے زائد ہے۔