عافیہ صدیقی کے انتقال کی خبریں دم توڑ گئیں

ٹیکساس میں پاکستانی قونصل جنرل نے ڈاکٹرعافیہ سے جیل میں ملاقات کی،عائشہ فاروقی اور عافیہ صدیقی کی ملاقات 2 گھنٹے تک جاری رہی

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس جمعرات مئی 20:03

عافیہ صدیقی کے انتقال کی خبریں دم توڑ گئیں
نیویارک(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔24 مئی 2018ء) عافیہ صدیقی کے انتقال کی خبریں دم توڑ گئیں ٹیکساس میں پاکستانی قونصل جنرل نے ڈاکٹرعافیہ سے جیل میں ملاقات کی،عائشہ فاروقی اور عافیہ صدیقی کی ملاقات 2 گھنٹے تک جاری رہی۔تفصیلات کے مطابق کچھ روز قبل یہ خبریں وشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں کہ امریکی قید میں موجود ڈاکٹر عافیہ قید ہی کی حالت میں انتقال کر گئی ہیں ۔

اس خبر نے پورے پاکستان بالخصوص ڈاکٹر عافیہ کے چاہنے والوں میں ایک بے چینی کی لہر پیدا کر دی تھی۔۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن نے بھی بتایا کہ انکا ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا،مزید انہوں نے بتایا کہ انہیں حکومت پاکستان،، وزارت خارجہ اور امریکی جیل حکام نے اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا۔ان کا کہنا تھا کہ آن لائن قیدیوں کے اسٹیٹس میں عافیہ صدیقی کا اسٹیٹس زندہ لکھا ہوا ہے اور اگر کسی قیدی کا اسٹیٹس تبدیل کیا جاتا ہے تو امریکی قوانین کے مطابق اہلخانہ کو معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔

(جاری ہے)

جس کے بعد انکی موت کی خبریں زور پکڑنے لگیں ۔تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق عافیہ صدیقی کے انتقال کی خبریں دم توڑ گئیں۔امریکی ریاست ٹیکساس میں پاکستانی قونصل جنرل عائشہ فاروقی نے ڈاکٹرعافیہ سے جیل میں ملاقات کی،عائشہ فاروقی اور عافیہ صدیقی کی ملاقات 2 گھنٹے تک جاری رہی۔اس ملاقات کے بعد پاکستانی قونصل جنرل نے بتایا کہ انکی عافیہ صدیقی سے گزشتہ چودہ ماہ میں یہ چوتھی ملاقات ہے اور عافیہ کی موت کی خبروں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک سائنسدان ہیں، جن پر افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملے کا الزام ہے۔مارچ 2003 میں دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے اہم کمانڈر اور نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے بعد ڈاکٹر عافیہ صدیقی اپنے تین بچوں کے ہمراہ کراچی سے لاپتہ ہوگئیں۔بعد ازاں امریکا نے 2008 میں انہیں افغان صوبے غزنی سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔امریکی عدالتی دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عافیہ صدیقی کے پاس سے خطرناک اسلحہ برآمد ہوا تھا، جن سے پتہ چلتا تھا کہ وہ امریکی فوجیوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہی تھیں۔