سپریم کورٹ نے 2009میں ریلوے پولیس میں غیر قانونی طور پرکی گئی اہلکاروںکی بھرتیاں کالعدم قرار دیدیں

جمعرات مئی 23:00

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے 2009میں ریلوے پولیس میں غیر قانونی طور پرکی گئی اہلکاروںکی بھرتیاں کالعدم قرار دیدیں ، جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ریلوے پولیس کی اپیل منظورکرتے ہوئے سروسز ٹربیونل کا فیصلہ بھی کالعدم قراردیدیا ہے ، جسٹس گلزاار احمد کا کہنا تھا کہ پولیس میں غیرقانونی بھرتیوں کی اجازت نہیں دے سکتے ،غیرقانونی طورپر بھرتی ہونے والوں کو جانا ہوگااورجس نے غیرقانونی بھرتیاں کیں ان سے پیسہ ریکور کیا جائے کیونکہ یہ عام کیس نہیں بوگس بھرتیوں کا مقدمہ ہے،اس دوران پولیس اہلکاروں کی جانب سے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ مجاز حکام نے قانونی تقاضے پورے کرکے بھرتیاں کیں،اس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے استفسار کیاکہ کیا بھرتیوں کیلئے اشتہار دیا گیا تھا تووکیل نے جواب دیا کہ ان کے موکلان نے ایس پی کو درخواست دی جس پر بھرتیاں ہوئیں، جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ کیا بھرتیوں کی دوکان لگی تھی جہاں درخواست دی تھی جسٹس سجاد علی شاہ نے سوال کیا کہ ریلوے پولیس میں خالی نشستوں کا علم کیسے ہوا لگتاہے کوئی اشتہار نہیں دیا گیا۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ ریلوے پولیس نے غیرقانونی طورپربھرتی ہونے والے چھ اہلکار برطرف کر دیئے تھے لیکن سروسز ٹربیونل نے ملازمین کو بحال کر دیا تھا۔ٹربیونل فیصلے کیخلاف ریلوے پولیس نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سن کر بھرتیاں کالعدم قراردے دیں۔