عالمی امن اور سکیورٹی کے فروغ کے لئے کئی دہائیوں پرانے تنازعہ کشمیر اور فلسطین کی بنیادی وجوہات پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے، پاکستان

کشمیر اور فلسطین میں شہریوں پر حملے بین ا لاقوامی قوانین کی خلاف ورزیان ہیں ، ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا سلامتی کونسل میں اظہار خیال

جمعہ مئی 14:16

عالمی امن اور سکیورٹی کے فروغ کے لئے کئی دہائیوں پرانے تنازعہ کشمیر ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) نیویارک ( اے پی پی ) پاکستان نی کہا ہے کہ عالمی امن اور سکیورٹی کے فروغ کے لئے کئی دہائیوں پرانے تنازعہ کشمیر اور فلسطین کی بنیادی وجوہات پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے اور کہا ہے کہ کشمیر اور فلسطین میں شہریوں کو جن حملوں کا سامنا ہے وہ حملے بین ا لاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسلح تنازعات میں شہریوں کی حفاظت کے بارے میں کھلی بحث میں حصہ لیتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ وہ دن گزر گئے جب شہریوں پر مسلح تنازعات کے اثرات مشترکہ نقصانات تک محدود ہوتے تھے ۔

جبکہ جنسی زیادتی ، جبری گمشدگیاں اور ہلاکتیں اور ٹار گیٹیٹڈ حملے موجودہ دور میں مسلح تنازعات کا سیاہ ترین باب ہوتے ہیں ۔

(جاری ہے)

اور انسانی نقصانات کی سیاہ ترین تصویر پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کے حقوق اور انسانی زندگی کے احترام کے بارے میں شہریوں کے تحفظ والے جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں اور ایسے گھنائونے جرائم کے منصوبہ ساز وں کو ملٹری کمانڈروں کی طرف سے اعزازات دیئے جارہے ہیں ۔

پاکستانی سفارتی نمائندہ نے کہا کہ فلسطین اور بھارتی مقبوضہ جموں وکشمیر سلامتی کونسل کے بہت پرانے ایجنڈہ پر ہیں جہاں پر ان جرائم کے منصوبہ سازوں کی کارروائیاں جاری ہیں سفیر ملیحہ لودھی نے 15 رکنی سلامتی کونسل کو بتایا کہ سلامتی کونسل کی طرف سے غیر ملکی جارحیت اور قبضہ پر کوئی کارراوئی نہ ہونے کی صورت میں ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے جس میں یہ جرائم پنپتے ہیں جس سے شہریوں کی ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہوتاہے جبکہ تنازعہ کی وجہ سے بے گھر ہونے والوں کو اسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد اور تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے ۔

پاکستانی سفارتی نمائند ملیحہ لودھی نے بحث سمیٹتے ہوئے شہریوں کے تحٖفظ کے مقصد کے حصول کے لئے جنگی تنازعات پیدا ہونے کی روک تھام کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ہمیں شہریوں کے تحٖفظ کے ہدف کو پورا کرنے کے لئے اجتماعی کوشششیں تیز کرناہوں گی بصور ت دیگر ہم وجہ دور کرنے کی بجائے محض علامات کا علاج کر رہے ہوں گے ۔