قومی اسمبلی میں صدر کی تنخواہ ،الائونسز اور مراعات (ترمیمی) بل 2018ء پیش کردیا گیا

پیر مئی 19:57

اسلام آباد۔ 28 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں صدر کی تنخواہ الائونسز اور مراعات (ترمیمی) بل 2018ء پیش کردیا گیا۔ پیر کو قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر شیخ آفتاب احمد نے صدر کی تنخواہ الائونسز اور مراعات (ترمیمی) بل 2018ء پیش کیا۔عبدالرشید گوڈیل نے کہا کہ صدارتی تنخواہ اور مراعات میں اضافے کا بل تو پیش کیا جارہا ہے غریب عارضی اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔

اس طرح پارلیمنٹرین کی پنشن کے حوالے سے بھی مطالبے پر غور نہیں کیا گیا حالانکہ دنیا کے کئی ممالک میں یہ رائج ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تنخواہیں ٹھیک ہو جائیں تو کرپشن کا بھی سدباب ہو سکتا ہے۔ رکن منتخب ہونے کے بعد کسی کو بھی کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

(جاری ہے)

شیریں مزاری نے کہا کہ اساتذہ اور سٹیل ملز کے ورکروں کو تنخواہ کی ادائیگی التواء کا شکار ہے۔

ان حالات میں صدر کی تنخواہ اور مراعات کا بل واپس لیا جائے۔ عبدالستار بچانی نے کہا کہ عبدالرشید گوڈیل شہری آدمی ہیں۔ فلیٹ میں رہتے ہیں ان کا کاروبار بھی محدود ہے ان کو ووٹ بھی نظریاتی ملتے ہیں۔ پنجاب سندھ اور کے پی کے کے لوگوں کو ایک دوسرے کے دکھ درد اور خوشی اور غمی میں شرکت کرنی ہوتی ہے۔ یہ اب بھی اپنے قائد کے پیچھے ہیں۔ عبدالرشید گوڈیل نے کہا کہ یہ سب شہر میں رہتے ہیں گائوں میں انہوں نے ڈیرے رکھے ہوئے ہیں۔

انہیں ووٹ کو عزت دینے کے ساتھ ساتھ ووٹر کو بھی عزت دینی ہوگی۔ صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ صدر کی تنخواہ میں اضافہ کا کوئی جواز نہیں ہے۔ وزیراعظم نے وفاقی حکومت کے ملازمین کو تین بنیادی تنخواہوں کا اعزازیہ دینے کا اعلان کیا ہے ہمیں صوبوں سے کہا جارہا ہے۔ وزیراعظم کو یہ اعلان پورے پاکستان کے لئے کرنا چاہیے۔ سپیکر نے کہا کہ تمام صوبوں کو اعزازی تنخواہ دینی چاہیے۔