لاہور ہائیکورٹ نے پارلیمنٹ کو ملک کاسب سے طاقتور ادارہ قرار دلوانے کیلئے دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق مزید دلائل طلب کر لئے

بدھ مئی 20:00

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) لاہور ہائیکورٹ نے پارلیمنٹ کو ملک کاسب سے طاقتور ادارہ قرار دلوانے کیلئے دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق مزید دلائل طلب کر لئے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ نے کیس کی سماعت کی، فاؤنڈیشن فار جسٹس کے وکیل اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ریاست اپنے اختیارات کا استعمال عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے کرتی ہے۔

(جاری ہے)

درخواست میں کیاگیا کہ ججز اور فوج کو احتساب کے ادارے میں نہ لانا آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے اور یہ امتیازی سلوک ہے،انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت کسی ادارے یا فرد میں امتیازی سلوک کی گنجائش نہیں ہے۔ درخواست میں سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل پر بھی اعتراض کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق کہ کوئی بھی شخص اپنے مقدمے میں خود جج نہیں ہو سکتااس لیے پارلیمان کو ملک کا طاقتور ادارہ قرار دیا جائے، جس پر عدالت نے درخوست گزار سے درخواست کے قابل ساعت ہونے سے متعلق مزید دلائل طلب کر لئے، عدالت نے سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کر دئیے۔