تحریک انصاف کی جانب سے نگراں وزیرعلی پنجاب کیلئے ناصر سعید کھوسہ کا نام واپس لیے جانے کی اصل وجہ سامنے آگئی

ناصر سعید کھوسہ کا نام عمران خان نے جہانگیر ترین کے مشورے پر تجویز کیا تھا، تاہم بعد ازاں شاہ محمود قریشی نے اپنے گروپ کے ہمراہ اس فیصلے کی شدید مخالفت کی جس پر تحریک انصاف کے سربراہ کو اپنا فیصلہ بدلنا پڑا

muhammad ali محمد علی بدھ مئی 19:45

تحریک انصاف کی جانب سے نگراں وزیرعلی پنجاب کیلئے ناصر سعید کھوسہ کا ..
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔30 مئی 2018ء) تحریک انصاف کی جانب سے نگراں وزیرعلی پنجاب کیلئے ناصر سعید کھوسہ کا نام واپس لیے جانے کی اصل وجہ سامنے آگئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز تحریک انصاف نے نگراں وزیراعلی پنجاب کیلئے تجویز کردہ ناصر سعید کھوسہ کا نام واپس لینے کا اعلان کیا۔ تحریک انصاف کی جانب سے نگراں وزیرعلی پنجاب کیلئے ناصر سعید کھوسہ کا نام واپس لیے جانے کی اصل وجہ سامنے آگئی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ معاملہ بھی جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کی آپسی لڑائی کی نظر ہوگیا ہے۔ ناصر سعید کھوسہ کا نام عمران خان نے جہانگیر ترین کے مشورے پر تجویز کیا تھا۔ تاہم بعد ازاں شاہ محمود قریشی نے اپنے گروپ کے ہمراہ اس فیصلے کی شدید مخالفت کی جس پر تحریک انصاف کے سربراہ کو اپنا فیصلہ بدلنا پڑا۔

(جاری ہے)

تاہم اب پنجاب حکومت ناصر سعید کھوسہ کو ہی نگراں وزیراعلی پنجاب بنانے پر بضد ہے۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز پاکستان تحریک انصاف نے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کا نامزد کردہ نام واپس لے لیا،،تحریک انصاف کی جانب سے سابق چیف سیکرٹری ناصرمحمود کھوسہ کانام دیا گیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تحریک انصاف نے اپنے یوٹرن کی روایت برقرار رکھی۔۔تحریک انصاف نے اپنے ہی نامزد کردہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب ناصر کھوسہ کا نام واپس لے لیا ہے۔

پی ٹی آئی نے ناصر محمود کھوسہ کے نام کو متنازع گردانتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارا نام نہیں ہے۔ اپوزیشن لیڈرمیاں محمود الرشید نے کہا کہ نامزد نام پر پارٹی اور باہر سے مخالفت کی آوازیں آرہی تھیں۔نئے نام پارٹی مشاورت کے بعد آج ہی سامنے آجائیں گے۔ تحریک انصاف نے کامران رسول اور طارق کھوسہ کے ناموں پر مشاورت شروع کردی ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی جانب سے سابق چیف سیکرٹری ناصرمحمود کھوسہ کانام دیا گیا تھا،جلد بازی میں غلطی ہوگئی۔

اب ہم نام واپس لے رہے ہیں۔دوسری جانب وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے تحریک انصاف کی جانب سے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب ناصرمحمود کھوسہ کا نام واپس لینے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ تحریک انصاف نے نگران وزیراعلیٰ پنجاب ناصر محمود کھوسہ کی نامزدگی پر مذاق کیا ہے۔ نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کی نامزدگی ایک آئینی و قانونی طریقہ کے تحت کی گئی ہے۔

جس کے باعث نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کا نام واپس لینے کی اب کوئی گنجائش نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اب جو مرضی کہتی رہے کہ ہم نے جلد بازی میں نامزدگی کردی یا جو کچھ مرضی کہے۔ اب نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کی جس پرآئین کے تحت نامزدگی ہوئی ہے اسی طرح ان کی نامزدگی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ اب نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے نام پر کوئی مشاورت یا نظر ثانی نہیں کی جائے گی۔

وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اب نگراں وزیراعلیٰ کے نام پردوبارہ مشاورت کی جائے، یانام واپس لے لیا جائے۔ دوسری جانب سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی کا نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہنا ہے کہ نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے ناصر کھوسہ کا نام تحریک انصاف نے خود تجویز کیا تھا۔ تحریک انصاف کے تجویز کردہ نام کی تائید ن لیگ کے قائد نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کی۔

اب اگر نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے نام پرتحریک انصاف کو کوئی اعتراض ہے تو گیند پی ٹی آئی کی کورٹ میں ہے۔۔پی ٹی آئی نے پہلے خود نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے نام پراتفاق کیا پھر اب ناصر کھوسہ کی اہلیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔جوکہ اچھی سیاسی روایت نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے ،یہ اچھا سمجھا جارہا تھا کہ نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے نام پراتفاق رائے سامنے آیا تھا۔

اپوزیشن لیڈر نے وزیراعلیٰ پنجاب کے ساتھ بیٹھ کراتفاق کیا۔جبکہ نگراں وزیراعلیٰ ناصر کھوسہ کے نام کی اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے خو دمیڈیا کے سامنے آکر تائید بھی کی تھی۔اس سے پہلے پی ٹی آئی نے نگراں وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کے نام پر اتفاق کیا ، جب پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے تنقید کی توپی ٹی آئی منظور آفریدی کے نام سے بھی پیچھے ہٹ گئی۔۔پی ٹی آئی کی سیاسی نمبر گیم سمجھ سے باہر ہے۔دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی عمراں خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کور گروپ کا اجلاس ہوا۔ جس میں نگراں وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ اور نگراں وزیراعلیٰ پنجاب ناصر خان کھوسہ کے ناموں پر جائزہ لیا گیا۔