پاکستان کی آئندہ حکومت خطے کی ترقی کیلئے مزیدکام کرے گی،یائو جنگ

پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف صف اول کا کردار اداکیا اور قربانیاں دیں،پاکستان پر امن ملک ہے،فاٹا کا انضمام پاکستان کی بڑی کامیابی ہے،اجلاس کا بنیادی مقصد رکن ممالک میں باہمی اعتماد ،تجارت ،معیشت، تحقیق ،ٹیکنالوجی ، تعلیم ،توانائی ،مواصلات ،سیاحت،ماحولیاتی تحفظ،سمیت دوسرے شعبوں میں موثر تعاون کا فروغ اور خطے میں استحام اور ترقی لانا ہے پاکستان میں تعینات چینی سفیر یائو جنگ کی صحافیوں سے گفتگو

بدھ مئی 21:12

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) پاکستان میں تعینات چینی سفیر یائو جنگ نے کہا ہے کہ پاکستان کی آئندہ حکومت خطے کی ترقی کیلئے مزیدکام کرے گی، پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف صف اول کا کردار اداکیا اور قربانیاں دیں،،پاکستان اب پر امن ملک ہے، فاٹا کا انضمام پاکستان کی بڑی کامیابی ہے،شنگھائی تعاون تنظیم کے مستقل رکن کی حیثیت سے پاکستان اجلاس میں شریک ہو رہا ہے، شنگھائی اجلاس بہت جامع اجلاس ہے،اجلاس کا بنیادی مقصد رکن ممالک میں باہمی اعتماد ،تجارت ،معیشت، تحقیق ،،ٹیکنالوجی ، تعلیم ،توانائی ،مواصلات ،سیاحت،ماحولیاتی تحفظ،سمیت دوسرے شعبوں میں موثر تعاون کا فروغ ہے ،خطے میں امن،سیکیورٹی ،اور استحکام کو برقرار اور یقینی بنانے کیلئے مشترکہ کوششیں، جمہوری اور شفاف نئے بین الاقوامی سیاسی نظام کے قیام کے لئے آگے بڑھنا ہے،تفصیلات کے مطابق چین کے سفیر یائوجنگ نے کہا ہے کہ چین اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ پاکستان میں نگران اور نئی حکومت خطے کی ترقی کیلئے چین کے ساتھ مل کر کام کر ے گی ۔

(جاری ہے)

یائوجنگ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف صف اول کا کردار اداکیا اور قربانیاں دیں اب یہاں حالات بہت بہتر ہیں ۔۔فاٹا کا خیبر پختونخواہ میں انضمام ایک دیرینہ مسئلہ تھا جو پاکستان کی بڑی کامیابی ہے ۔جون میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں پاکستان پہلی مرتبہ مکمل رکن کے طور پر شرکت کر رہا ہے ۔

یائوجنگ نے کہا کہ شنگھائی اجلاس بہت جامع ہے جس میں مواصلات ،تجارت ،انسانی حقوق کے وزراء ملاقاتیں کریں گے ۔۔چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی دیگر رکن ممالک کے چیف جسٹس صاحبان سے ملاقات کی ۔اجلاس کا بنیادی مقصد رکن ممالک میں باہمی اعتماد کو مضبوط کرنا ،سیاست ،تجارت ،معیشت، تحقیق ،،ٹیکنالوجی ،اور ثقافت سمیت تعلیم ،توانائی ،مواصلات ،سیاحت،ماحولیاتی تحفظ،سمیت دوسرے شعبوں میں موثر تعاون کو بڑھانا ،خطے میں امن،سیکیورٹی ،اور استحکام کو برقرار اور یقینی بنانے کیلئے مشترکہ کوششیں کرنا ،اور جمہوری اور شفاف نئے بین الاقوامی سیاسی نظام کو قائم کرنے کیلئے آگے بڑھنا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ شنگھائی تنظیم کے دو مستقل دفاتر ہیں ،جوبیجنگ میں شنگھائی تعاون تنظیم سیکرٹریٹ اور تاشقنت میں ریجنل اینٹی ٹیرارسٹ سٹرکچر (راٹس) ایگزیکٹو کمیٹی کے نام سے قائم ہیں ۔ ریجنل اینٹی ٹیرارسٹ سٹرکچر (راٹس)کمیٹی ان ممالک سے معلومات کا تبادلہ کرے گی جو دہشتگردی کا سامنا کر رہے ہیں جس سے پاکستان سمیت تمام رکن ممالک فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

شنگھائی تعاون تنظیم بھارت ،قازقستان ،،چین ، کرغستان ،،پاکستان ،،روس،،تاجکستان ،اور ازبکستان سمیت آٹھ ممالک پر مشتمل ہے ۔تنظیم میں افغانستان ، بیلا روس ،،ایران ، اور منگولیا بطور مبصر ریاستوں کے شامل ہیں جبکہ آذربائیجان ، ارمینیا ، کیمبوڈیا ، نیپال ،،ترکی او رسری لنکا تنظیم میں بطورچھ مذاکرات کار شامل ہیں ۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ خطے کی ترقی اور امن کیلئے تمام حالات میں پاکستان اور چائنہ کی مضبوط اور مستحکم دوستی عملی اہمیت کی حامل ہے ۔شنگھائی تعاون تنظیم ایک مستقل بین الحکومتی بین الاقوامی تنظیم ہے جو جون 2001 میں قائم ہوئی اور پاکستان نے اس کی مکمل رکنیت کا اعلان جون 2017 میں کیا۔