سردار محمد یوسف نے اپنی وزارت کی پانچ سالہ کارکردگی کو اطمینان بخش قرار دے دیا

جمعرات مئی 17:42

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے اپنی وزارت کی پانچ سالہ کارکردگی کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حج،، شعبہ تحقیق، زکوة کی وصولی، بین المذاہب ہم آہنگی، متروکہ وقف املاک بورڈ، شعبہ دعوة و زیارات اور اسلامی قانون سازی بالخصوص قرآن پاک کی لازمی تعلیم کے بل کی منظوری جیسے امور میں ماضی کے مقابلہ میں قابل قدر بہتری آئی ہے، مؤثر حج انتظامات کی وجہ سے عوام کا سرکاری سکیم پر اعتماد بڑھا ہے، 2018ء میں تین لاکھ 75 ہزار سے زائد درخواستوں کی وصولی اس کا واضح ثبوت ہے، قرآن و سنت کے مطابق زندگی بسر کرنے کیلئے ہم نے بہتر ماحول فراہم کرنے کی ابتداء کر دی ہے، اچھی ابتداء کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے، زکوة کی رقم کے ذریعے غریب کو روزگار کی فراہمی اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے کام کرنا ہو گا۔

(جاری ہے)

جمعرات کو وزارت مذہبی امور میں وزیر مملکت پیر امین الحسنات شاہ کے ہمراہ الوداعی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الله کا شکر ادا کرتا ہوں کہ وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالہ سے ہم کوشش اور جدوجہد کے ذریعے عوام کی خدمت میں سرخرو ہوئے ہیں، حج کے شعبہ میں 2013ء میں جب ہماری حکومت آئی تو سرکاری سکیم کی تین کیٹگریاں تھیں، حج پیکیج 4 لاکھ 18 ہزار تک تھا، 2014ء میں ایک سال کے بعد مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے انتظامات کے نتیجہ میں ہم نے تمام کیٹگریاں ختم کرکے حج سکیم پیکیج کم کر دیا، پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر صرف ایک دن میں ایک لاکھ 27 ہزار درخواستیں آئیں، اس کے بعد قرعہ اندازی کا طریقہ اختیار کیا گیا۔

2015ء میں حج پیکیج 2 لاکھ 64 ہزار دیا گیا، 2016ء میں حج پیکیج 2 لاکھ 78 ہزار کر دیا گیا، 2016ء کا حج آپریشن کامیاب ترین حج آپریشن تھا۔ وزیراعظم نے اچھی کارکردگی کی بناء پر پوری وزارت کے ملازمین کو چار بنیادی تنخواہوں کا اعزازیہ دیا، اس کے بعد 2017ء میں حج پیکیج 2 لاکھ 70 ہزار سے 2 لاکھ 80 ہزار کر دیا گیا۔ وزارت کی طرف سے تین وقت کا مشائر میں کھانا بھی فراہم کیا گیا، 2018ء میں بھی 2017ء والا پیکیج ہو گا، رواں مالی سال ٹیکسوں کی وجہ سے ہر حاجی پر 45 ہزار کا اضافی بوجھ حکومت برداشت کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ منیٰ میں رواں سال بنکر بیڈز کا انتظام کیا گیا ہے، 2013ء میں سرکاری سکیم کے تحت حج درخواستیں 86 ہزار تھیں، 2018ء میں یہ ساڑھے تین لاکھ سے تجاوز کر گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت کے ٹیم ورک کی وجہ سے عوام کا اعتماد بحال ہوا ہے، ریسرچ کے ذریعے ملک کے چاروں صوبوں میں علماء مشائخ کونسلیں قائم کی گئی ہیں، اس سے تفرقہ بازی میں کمی آتی ہے، ہمارے دور حکومت میں 6 قومی سیرت کانفرنسیں منعقد کرائی گئیں، نظام صلوة کیلنڈر کا آغاز کیا گیا، رمضان المبارک میں محافل شبینہ کا انعقاد کرایا گیا، قرآن پاک کے مقدس اوراق کیلئے ری سائیکلنگ پلانٹ کا پی سی ون تیار ہو چکا ہے، صوبوں کے اتفاق سے 52 گرام کے قرآن پیپر پر قرآن پاک کی طباعت ہو گیِ، توہین آمیز اور فرقہ وارانہ اور فحش ویب سائٹ کو بلاک کرنے کیلئے شعبہ قائم کیا گیا جس نے پانچ سالوں میں 46200 ویب سائٹس کا جائزہ لیا اور 15481 شکایات پی ٹی اے کو بھجوائیں جن میں سے پی ٹی اے نے 6149 ویب سائٹس بلاک کیں۔

بین المذاہب ہم آہنگی پر پانچ کانفرنسیں منعقد کرائی گئیں، ٹور آپریٹرز کو کوٹہ کی فراہمی کیلئے مختلف اداروں پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی، 2013ء میں 4053 ملین جبکہ 2018ء میں 8009 ملین زکوة جمع ہوئی۔ بین المذاہب ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے 2015ء میں صوبوں نے وفاقی حکومت کی ہدایت پر بین المذاہب ہم آہنگی کمیٹیاں قائم کی ہیں۔ 26 ممالک کے مندوبین پر مشتمل بین المذاہب ہم آہنگی کا نفرنس منعقد کی گئی۔

2014ء میں اقلیتی طلباء کے وظائف کی تعداد دوگنا کر دی گئی، جوزف کالونی سانحہ کے متاثرین کیلئے مالی امداد بھی وزارت مذہبی امور نے ادا کی۔ انہوں نے کہا کہ 17057 غریب اور ضرورت مند اقلیتی افراد کو مالی امداد دی گئی، قومی کمیشن برائے اقلیتوں کے 6 اجلاس منعقد ہوئے، متروکہ وقف املاک کے تحت 18 مذہبی مقامات آتے ہیں، میڈیا سیل کی دیگر مثبت خدمات کے ساتھ ساتھ سب سے اہم کام حج اور عمرہ کی ادائیگی کے حوالہ سے آگہی مہم چلائی گئی۔

شعبہ دعوة اور زیارات کے ذریعے ہر سال مقابلہ حسن قرأت کا انعقاد ہوتا ہے، انعامی رقم بڑھا کر اول، دوئم اور سوئم آنے والوں کیلئے 50 ہزار، 35 ہزار اور 25 ہزار کر دی گئی۔ عالمی مقابلہ حفظ و قرأت میں سعودی عرب سمیت دیگر ممالک میں پاکستان کی طرف سے 45 حفاظ کرام کو بھجوایا گیا۔ مبلغین اور آئمہ کرام کی تربیت کا اہتمام کیا گیا۔ زائرین کو مکمل تربیتی مشن، بہتر سفری اور حفاظتی سہولیات فراہم کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ عمرہ کے انتظامات کو بہتر بنانے کیلئے تقریباً 500 سے زائد ٹریول ایجنٹس رجسٹرڈ کئے گئے جبکہ شکایات کے درج کرانے کیلئے بھی ایک نظام وضع کیا گیا ہے اور عمرہ سے متعلق تمام اقدامات کو منظم کرنے کیلئے حج و عمرہ ایکٹ 2018ء بھی زیر غور ہے۔ وزارت مذہبی امور نے مرکزی سطح پر قرآن بورڈ قائم کر دیا ہے۔ وزارت کی کوششوں سے قرآن پاک کی لازمی تعلیم کا بل منظور کیا گیا ہے۔

قرآن و سنت کے مطابق ملک میں زندگی بسر کرنے کیلئے ہم نے بہتر ماحول فراہم کرنے کی ابتداء کر دی ہے، اچھی ابتداء کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت سے پہلے مختلف حج سکینڈل آئے مگر ہم الله کی مدد سے حج کے عمل کو شفاف بنانے میں کامیاب ہوئے۔ زکوة کی رقم کے ذریعے غریب کو روزگار کی فراہمی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے کام کرنا ہو گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) میں ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ ختم نبوت کے حوالہ سے سوال کے جواب میں وزیر مملکت پیر امین الحسنات نے کہا کہ ہمارے دور میں سب سے زیادہ تکلیف دہ معاملہ یہی تھا، سبق یہ ملا ہے کہ جو بھی بل آئے پہلے ضرور پڑھ لیا جائے، صرف ڈیسک نہ بجائے جائیں، غلطی ہوئی، غلطی کا پتہ چلا اور اس کا ازالہ ہوا۔

راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کر دی گئی، عدالت نے رپورٹ کی تحسین کی اور فریقین نے اس رپورٹ پر اعتماد کا اظہار کیا۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیر مذہبی امور نے کہا کہ نظام صلوة کیلئے پورے ملک میں آگاہی پھیلائی ہے، قرآن کمپلیکس کیلئے زمین کے حصول کا عمل جاری ہے، ہم نے سمری ارسال کر دی ہے، کام کا آغاز کرنا مشکل ہوتا ہے۔

پیر امین الحسنات نے کہا کہ جو کام کرتا ہے کوتاہیاں بھی ہوتی ہیں، ہم اپنی کوتاہیوں پر بیہودگی سے ڈٹے ہوئے نہیں ہیں، ہم نے اپنی اصلاح کی ہے۔ سردار محمد یوسف نے کہا کہ پرائیویٹ حج کوٹہ کے تحت پرانی کمپنیوں کو ابھی تک خطوط جاری ہوئے ہیں۔ سیکرٹری مذہبی امور خالد مسعود چوہدری نے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف اور وزیر مملکت برائے مذہبی امور پیر امین الحسنات کو پھول پیش کئے۔