ٹیکس گزار رو رہا ہے اور وزیر ڈھائی کروڑ کی گاڑی استعمال کر رہا ہے‘جسٹس میاں ثاقب نثار

سپریم کورٹ نے کل وزیر اعظم کی گاڑیوں کی منظوری کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی وزرا کھاتے پیتے لوگ ہیں تو اپنی گاڑیاں کیوں استعمال نہیں کرتی سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں لگژری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت

جمعہ جون 18:18

ٹیکس گزار رو رہا ہے اور وزیر ڈھائی کروڑ کی گاڑی استعمال کر رہا ہے‘جسٹس ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ٹیکس گزار رو رہا ہے اور وزیر ڈھائی کروڑ کی گاڑی استعمال کر رہا ہے، وزرا کھاتے پیتے لوگ ہیں تو اپنی گاڑیاں کیوں استعمال نہیں کرتی ۔۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں لگژری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت ہوئی ، عدالتی حکم پر سابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ وہ 3لگژری گاڑیاں کس حیثیت سے استعمال کر رہے تھی جس پر زاہد حامد نے عدالت کو بتایا کہ ان کے زیراستعمال صرف ایک گاڑی تھی اور وہ بھی کابینہ ڈویژن کی منظوری سے استعمال کی چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وزراکتنے سی سی گاڑی رکھنے کا استحقاق رکھتے ہیں جس پر زاہد حامد نے لاعلمی کا ظہار کیا ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزرا 1800 سی سی گاڑی کا استحقاق رکھتے ہیں تاہم وزیر اعظم نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر بڑی گاڑیوں کی منظوری دی، استحقاق کے بغیر دی گئی 30 گاڑیاں واپس لے لی گئی ہیںچیف جسٹس نے ریمارکس دیے عدالت جائزہ لے گی کہ وزیر اعظم نے کس حیثیت میں منظوری دی، ٹیکس گزار رو رہا ہے اور وزیر ڈھائی کروڑ کی گاڑی استعمال کر رہا ہے، وزرا کھاتے پیتے لوگ ہیں تو اپنی گاڑیاں کیوں استعمال نہیں کرتی ۔

(جاری ہے)

سپریم کورٹ نے کل وزیر اعظم کی گاڑیوں کی منظوری کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی۔