شام میں امریکی فوج سے تصادم بھی ہو سکتا ہے، صدربشارالا اسد کی تنبیہ

جنگ نہیں چاہتے مگرامریکی حمایت یافتہ جنگجوئوںکو خطرہ ہواتوبھرپورکارروائی کریں گے،محکمہ خارجہ کا ردعمل

ہفتہ جون 11:58

واشنگٹن/دمشق(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) شامی صدر بشارالاسد نے کہاہے کہ اگر امریکا نے شام میں باغیوں کی مدد کے لیے موجود اپنے فوجی دستوں کو جلد واپس نہ بلایا تو شامی سرزمین پر امریکی فوج کے ساتھ تصادم کے امکانات بہت بڑھ جائیں گے۔روسی نشریاتی ادارے کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں بشارالاسد کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی حکومت امریکی حمایت یافتہ جنگجوؤں کے ساتھ مذاکرات تو کر سکتی ہے لیکن اگر ضروری ہوا تو ان کے زیر قبضہ علاقوں کی واپسی کے لیے عسکری قوت کا استعمال بھی کیا جائے گا۔

اسد کے مطابق اگر امریکی فوجی اپنے حمایت یافتہ باغیوں کی مدد کے لیے پہنچیں گے، تب بھی دمشق حکومت عسکری کارروائی کرے گے۔دوسری جانب امریکا کا کہنا تھا کہ امریکا شامی فوج یا شامی سرزمین پر موجود ایرانی فوجیوں کے ساتھ براہ راست تصادم نہیں چاہتا۔

(جاری ہے)

تاہم امریکی دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ شام میں داعش کے خلاف برسرپیکار امریکی حمایت یافتہ جنگجوؤں کے دفاع کے لیے ضروری اور متناسب طاقت کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار کا کہنا تھاکہ امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد شام میں داعش کو شکست دینے کے اپنے مشن پر کاربند ہے اور شامی فوج،، وہاں موجود ایرانی فوجیوں یا ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے ساتھ کسی قسم کا تصادم نہیں چاہتا۔ تاہم جیسا کہ ہم ماضی میں بھی کہہ چکے ہیں، اگر حملہ کیا گیا تو امریکی فوجیوں اور اتحادیوں کے دفاع کے لیے ضروری اور متناسب قوت کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔اندازوں کے مطابق شامی سرزمین پر امریکی فوج کے قریب دو سو خصوصی اہلکار موجود ہیں۔ یہ اہلکار شامی باغیوں کے گروہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز یا ایس ڈی ایف کے فائٹرز کی معاونت اور مشاورت کر رہے ہیں۔ اس گروہ کی قیادت کردوں کی ایک ملیشیا کر رہی ہے۔