ملائیشیا میں چھوٹے ہتھیاراسمگل کرنے والی15 مشتبہ دہشت گرد گرفتار

ملزمان میںمتعددغیرملکی،خواتین اورایک جوڑا بھی شامل،ایک کا تعلق داعش سے ہے،پولیس چیف محمد فوزی ہارون

ہفتہ جون 12:37

کوالالمپور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) ملائیشیا کی پولیس نے کہاہے کہ اس نے چھوٹے ہتھیار اسمگل کرنے اور عبادتی مقامات پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے مزید 15 مشتبہ ملزمان کو گرفتار کر لیا، جن میں کئی غیر ملکی بھی شامل ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق قومی پولیس کے چیف محمد فوزی ہارون نے کہا کہ مارچ اور مئی میں 6 ملائیشین، 6 فلپائنیوں، بنگلہ دیشی ریسٹورنٹ کا مالک اور شمالی افریقی ملک سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کو حراست میں لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ گرفتار کیے گئے ملائیشین میں 17 سالہ طالب علم بھی شامل ہے جس نے کوالا لمپور میں تفریحی مقامات، گرجاگھروں اور ہندوؤں کے مندروں کے خلاف استعمال کرنے کے لیے 6 مولوٹوو کاکٹیل تیار کیے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ طالب علم نے، جو مشتبہ طور پر داعش کا رکن ہے، اپریل میں کھلے مقام پر اپنی ڈیوائسز میں سے ایک کا تجربہ کیا اور اسے سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کو شیئر کرنے کے ایک گھنٹے بعد گرفتار کیا گیا، جس میں اس نے حملوں کی دھمکی دی تھی۔

(جاری ہے)

پولیس چیف کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو عام انتخابات کے دوران 51 سالہ ملائیشین خاتون کو بھی حراست میں لیا گیا، جو ووٹنگ سینٹر پر غیر مسلموں پر کار چڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔اس کے علاوہ مشتبہ خاتون نے غیر مسلموں کی عبادت گاہوں پر گیس سلنڈرز سے بھری گاڑی کے ذریعے حملہ کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رکھی تھی۔انہوں نے کہا کہ 33 سالہ ملائیشین شخص کو داعش میں شمولیت کے لیے شام جانے کی کوشش پر ترکی سے بیدخل کیے جانے کے بعد گرفتار کیا گیا۔دیگر دو ملائیشین افراد کو پولیس افسران کو اغواء کرکے انہیں قتل کرنے اور عبادتی مقامات پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے پر گرفتار کیا گیا۔