اگر پار لیمنٹ کے پاس قانون بنانے کا اختیار ہے تو ہائیکورٹ کسی قانون کو کیسے ختم کر سکتا ہے احسن اقبال

ملک میں عام انتخابات کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں جا رہی ہیں ‘لاہور ہائیکورٹ کی ایک جج صاحبہ نے پار لیمنٹ کی قانون سازی ختم کر دی جس پر سپیکر اس فیصلے خلاف سپر یم کورٹ جا رہے ہیں ‘ملک میں کسی بھی صورت عام انتخابات میں تاخیرنہیں ہونی چاہیے ‘ جن کو (ن) لیگ میں اپنی جگہ نظر نہیں آتی وہ ہی پارٹی چھوڑ رہے ہیں ‘عام انتخابات اب موسمی سیاسی پر ندوں کوٹکٹ نہیں دیں گے صرف پارٹی کیلئے قر بانیاں دنیوالوں کو ٹکٹ ملیں گے‘گفتگو

ہفتہ جون 20:53

اگر پار لیمنٹ کے پاس قانون بنانے کا اختیار ہے تو ہائیکورٹ کسی قانون ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) سابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ یا تو پار لیمنٹ کا قانون سازی کر نے کاحق سلب ہو چکا ہے اگر پار لیمنٹ کے پاس قانون بنانے کا اختیار ہے تو ہائیکورٹ کسی قانون کو کیسے ختم کر سکتا ہے ملک میں عام انتخابات کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں جا رہی ہیں ‘لاہور ہائیکورٹ کی ایک جج صاحبہ نے پار لیمنٹ کی قانون سازی ختم کر دی جس پر سپیکر اس فیصلے خلاف سپر یم کورٹ جا رہے ہیں ‘ملک میں کسی بھی صورت عام انتخابات میں تاخیرنہیں ہونی چاہیے ‘ جن کو (ن) لیگ میں اپنی جگہ نظر نہیں آتی وہ ہی پارٹی چھوڑ رہے ہیں ‘عام انتخابات اب موسمی سیاسی پر ندوں کوٹکٹ نہیں دیں گے صرف پارٹی کیلئے قر بانیاں دنیوالوں کو ٹکٹ ملیں گے ۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں احسن اقبال نے کہا کہ یاتو یہ فیصلہ کر لیاجائے کہ پارلیمنٹ کا قانون سازی کا حق سلب کر لیا گیا ہے لیکن اگر پارلیمنٹ کے پاس آئین وقانون کے مطابق قانون سازی کا حق موجود ہے تو پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کی ایک جج صاحبہ پار لیمنٹ کے بنائے جانیوالے قانون کو ہی ختم کر دیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہم پہلے بھی کہتے رہے ہیں کہ ملک میں عام انتخابات کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں جا رہی ہے اور اب یہ بھی سلسلہ جا رہی ہے لیکن اسکے باوجود ہم سمجھتے ہیں کہ ملک میں عام انتخابات25جولائی کو ہی اپنے مقررہ وقت پر ہی ہونے چاہیے اور (ن) لیگ ایک بار پھر کامیاب ہوکر حکومت بنائے گی اور ملک وقوم کی خدمت کا مشن جاری رکھیں گے ملک کے موجودہ حالات بے یقینی نہیں بلکہ استحکام کا تقاضہ کر رہے ہیں اس لیے جو لوگ انتخابات میں التواء چاہتے ہیں وہ ملک استحکام کے دشمن ہیں ۔