پابندیوں سے قبل ایران کا بھارت سے تیل فروخت میں تیزی اور مفت شِپمنٹ کا معاہدہ

ایران2018-19کے درمیان بھارتی آئل ریفائنریز کو کی جانے والی شپمنٹ کا کوئی معاوضہ نہیں لے گا

اتوار جون 13:30

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) ایران کی آئل ریفائننگ کی صنعت کے حکام نے بتایا ہے کہ بھارتی کمپنی بھارت پٹرولیم نے ایرانی نیشنل آئل کمپنی سے دس لاکھ بیرل اضافی خام تیل طلب کیا ہے جو جون میں فراہم کیا جائے گا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تہران کو امریکا کی جانب سے سخت پابندیوں کے خطرے کا سامنا ہے۔ایرانی ٹی وی کے مطابق گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جوہری معاہدے سے علیحدگی کے اعلان کے بعد ایرانی تیل کی برآمدات غیر یقینی صورت حال کا شکار ہو گئی۔

ٹرمپ نے تہران پر دوبارہ پابندیاں عائد کیے جانے کے احکامات بھی جاری کیے۔ان میں بعض پابندیوں کا اطلاق چھ اگست سے ہو گا جب کہ بقیہ پابندیاں بالخصوص پٹرولیم سیکٹر پر پابندیاں چار نومبر سے لاگو ہوں گی۔

(جاری ہے)

ایران2018-19کے درمیان بھارتی آئل ریفائنریز کو کی جانے والی شپمنٹ کا کوئی معاوضہ نہیں لے گا۔ اس کے نتیجے میں ایران سے خام تیل خریدنے کے اخراجات خطے میں خام تیل کے دیگر فروخت کنندگان کے مقابلے میں بڑی حد تک کم ہو جائیں گے۔

چین کے بعد بھارت ایرانی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار اور ان چند ممالک میں سے ہے جنہوں نے مغربی پابندیوں کے سابقہ دور کے دوران بھی تہران کے ساتھ تجارت کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نئی دہلی صرف ان پابندیوں پر عمل درامد کرتا ہے جو اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کی جاتی ہیں۔