سعودی عرب میں خواتین کے لیے تاریخی لمحہ آن پہنچا

گزشتہ روز 10 خواتین کو سعودی ڈرائیونگ لائسنس جاری کر دیا گیا

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل جون 12:22

سعودی عرب میں خواتین کے لیے تاریخی لمحہ آن پہنچا
جدہ (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 5 جُون 2018ء) سعودی عرب میں تاریخ نے اُس وقت ایک نیا موڑ لیا جب جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ٹریفک کی جانب سے گزشتہ روز دس خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کر دیا گیا۔ اگلے تین ہفتوں میں مملکت کی سڑکوں پر خواتین گاڑیاں ڈرائیو کرتی نظر آئیں گی جب 24 جُون 2018ء سے اُنہیں ڈرائیونگ کرنے کی اجازت ہو گی۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق گزشتہ روز اُن دس خواتین کو سعودی ڈرائیونگ لائسنس جاری کیا گیا جن کے پاس پہلے سے ہی انٹرنیشنل لائسنس موجود تھے۔

ریاض میں واقع جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ٹریفک کی جانب سے اُن کا مختصر ڈرائیونگ ٹیسٹ لینے کے علاوہ اُن کی نظر کا معائنہ بھی کیا گیا۔ جس کے بعد انہیں ڈرائیونگ لائسنس مِل گیا۔ یہ اقدام سعودی مملکت کے ایک شاہی فرمان کی تعمیل میں لیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

لائسنس کے اجراء کے بعد‘ ایک خاتون کو سعودی ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے کی ویڈیو دُنیا بھر میں وائرل ہو چکی ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے خوشی کا طوفان برپا ہے اور پُرجوش سعودی باشندے ٹویٹر پر اس تاریخی دِن کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک سعودی نے ٹویٹر پر لکھا ’’سعودی عرب میں خواتین کے لیے پہلا ڈرائیونگ لائسنس جاری ہونے پر دُخترانِ وطن کو ہزار ہا ہزار مبارکباد‘ ۔ جبکہ ایک اور پیغام میں کہا گیا ’’خادمِِ حرمین شریفین (شاہ سلمان) کا بہت شکریہ‘ آخر ہم نے سعودی حکام کی جانب سے اپنی سعودی بہنوں کو لائسنس جاری کرتے ہوئے دیکھ ہی لیا‘ اب تم ((سعودی خواتین) نہ صرف مُلک سے باہر بلکہ مُلک ((سعودی عرب)) کے اندر بھی ڈرائیو کر سکتی ہو۔

‘‘ واضح رہے کہ آج سے تقریباً دس ماہ قبل ستمبر 2017ء میں ایک شاہی فرمان کے ذریعے خواتین پر کئی دہائیوں پر محیط ڈرائیونگ کی پابندی اُٹھانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ سعودی عرب کی پانچ یونیورسٹیوں میں خواتین کو ڈرائیونگ سکھانے کے لیے ڈرائیونگ سکول کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ سب سے پہلے دارالحکومت کی پرنسز نُورا یونیورسٹی میں خواتین کے لیے ڈرائیونگ سکول قائم کیا گیا۔

خواتین کی ڈرائیونگ پرپابندی کو ختم کرنے میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی خصوصی دلچسپی شامل تھی۔بتیس سالہ محمد بن سلمان کی کوششوں سے ختم کروائی گئی اس کوشش کے پس منظر میں اُن کا وِژن 2030ء کے تحت ترتیب دیا گیا سعودی اصلاحی پروگرام ہے۔ جس کے تحت مستقبل میں تیل کے ذخائر میں کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے معیشت کے دیگر شعبوں پر انحصار کو بڑھایا جائے اور اس سلسلے میں خواتین کی صلاحیتوں کو ترقی دی جائے جو مملکت کی کُل افرادی قوت کا ایک تہائی ہیں۔