گرمی کی لہر کے واقعات، ذریعہ معاش پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے شجرکاری ناگزیر ہے ،محمد سلیم شیخ

منگل جون 22:36

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی کے میڈیا ترجمان اور ڈپٹی ڈائریکٹر محمد سلیم شیخ نے کہا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں جاری گرمی کی لہر کے واقعات اوراس کے لوگوںصحت اور ان کے ذریعہ معاش پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے شہری شجرکاری کو ملکی سطح پر فروغ دینا ناگزیر ہے تاکہ شہروں کو عالمی حدت کے باعث رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں شدید گرمی کی لہرکے تواترسے رونما ہونے والے واقعات اور شہروں کوانتہائی گرم ہونے سے روکا جاسکے۔

اپنے ایک بیان میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے زراعت و خوراک کے تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے وزارت موسمیاتی تبدیلی کے میڈیاترجمان محمد سلیم نے کہا کہ شہروں میں درخت لگاکر تقریباً دو اور آٹھ ڈگری کے درمیان درجہ حرات کو کم کیا جا سکتا ہے اور اس سے گرمی کی لہر کے واقعات میں کمی کے ساتھ شدت میں بھی نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ شہری شجرکاری سے شہروں میں بڑھتی ہوئی ہوائی آلودگی پر قابو پانے، لوگوں میں سانسوں کی بیماریوں، ذہنی دبائو اور بلند فشارخون کے امراض میں بھی بڑی حدت تک کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس کے علاوہ، شہروں میں بڑے پیمانے پر شجر کاری کو فروغ دیکر علاقوں میں ائیرکنڈیشنوں کے استعمال میں 30 فیصد تک کمی لائی جاسکتی ہے جس کے نتیجے میں شہروں میں گرمی کی شدت میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ شہروں میں بے ہنگم اور ماحول دشمن طریقوں سے ہونے والی تعمیراتی سرگرمیاں، گاڑیوں کے استعمال میں بے تحاشہ اضافہ، گرین ایریاز کی جگہ پر عمارتوں کی تعمیر یا ان کا مکمل طور پر خآتمہ، شہروں میں گنجان آبادیوں میں اضافہ، درختوںکی تواتر سے کٹائی، ائیر کنڈیشنوں کے استعمال میں تیزی سے اضافہ اور قدرتی برساتی یا سیلابی نالوں پر قبضے شہروں میں گرمی کے لہر کے واقعات اور اس کی شدت میں اضافے کی اہم وجہ ہیں تاہم ان منفی اثرات سے نمٹنے کیلئے ہمیں شہروں میں بڑے پیمانے پر شجرکاری کرنی ہوگی تاہم اس کیلئے صوبائی اور وفاقی محمکہ جنگلات شہروں میں شجرکاری کو فروغ دینے کے لیے تمام تعلیمی اداروں، مختلف کارپوریٹ سیکٹر، نجی اور حکومتی اداروں کو شہری شجرکاری مہم میں شامل کرکے شہری شجرکاری کے پروگراموں کو کامیاب بنانے میں اپنا کلیدی کردار اداکرسکتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :