پاکستان فرنیچر کونسل کا 3 رکنی وفد تین روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ ہو گیا

وفد فرنیچر سیکٹر میں تجارت کے فروغ اور جدہ سمیت مختلف شہروں میں فرنیچر کے آؤٹ لیٹ کھولنے کے لئے امکانات کا جائزہ لے گا 5 دسمبر سے جدہ شروع ہونیوالے ڈیکوفیئر میں شرکت کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا جائیگا‘چیف ایگزیکٹو پی ایف سی میاں کاشف اشفاق

بدھ جون 14:44

پاکستان فرنیچر کونسل کا 3 رکنی وفد تین روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) پاکستان فرنیچر کونسل کا 3 رکنی وفد تین روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ ہو گیا جہاں وہ فرنیچر سیکٹر میں تجارت کے فروغ اور جدہ سمیت مختلف شہروں میں فرنیچر کے آؤٹ لیٹ کھولنے کے لئے امکانات کا جائزہ لے گا۔ جدہ روانگی سے قبل ایئرپورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے پی ایف سی کے چیف ایگزیکٹو میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے بعد سعودی عرب میں پاکستانی فرنیچر پروڈیوسرز کے لئے بہت زیادہ مواقع موجود ہیں کیونکہ پاکستان کے روایتی ہاتھ سے بنے فرنیچر کی بین الاقوامی مارکیٹوں میں بہت زیادہ مانگ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے کے لئے مشترکہ کاروباری حکمت عملی کے لئے اپنے سعودی ہم منصبوں کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ وہ 5 دسمبر سے جدہ شروع ہونے والے ڈیکوفیئر میں شرکت کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کریں گے جو ایک بڑا فرنیچر میلہ ہے جس میں مقامی اور بین الاقوامی برانڈز اپنی مصنوعات کی نمائش کرتے ہیں اور اس میں شرکت سے ہمیں خریداروں، انٹیریئر ڈیزائنرز، آرکیٹیکٹس اور سرمایہ کاروں کے ساتھ نیٹ ورکنگ اور کاروبار کرنے کا موقع ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے کسی بھی کاروباری سرگرمی میں حصہ لینے کے لئے بزنس ویزا فیس 74 ہزار روپے کردی ہے جس کی وجہ سے پاکستانیوں کی بڑی تعداد نمائش میں شرکت سے محروم رہ سکتی ہے اور اسی وجہ سے سعودی صحت نمائش 2017 میں ایک بھی پاکستانی کمپنی نے شرکت کی تھی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈیکو فیئر میں زیادہ سے زیادہ تاجروں کی شرکت کو یقینی بنانے کیلئے سعودی حکومت یہ فیس ختم کرے۔

میاں کاشف اشفاق نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ملکوں کے سرمایہ کاروں اور تاجروں کا باقاعدہ تبادلہ ہونا چاہئے اس سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھولیں گے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب ہمارا حقیقی دوست اور برادر ملک ہے، دونوں ممالک مذہبی، ثقافتی اور اقتصادی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں اور ہر پاکستانی سعودی عرب کو اپنا دوسرا گھر سمجھا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاک سعودی عرب تعلقات بہت اہمیت کے حامل ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد اور محبت کا ایک لازوال رشتہ ہے جو دنیا کے لئے ایک مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک جس طرح مختلف شعبوں میں تعاون کر رہے ہیں اسی طرح فرنیچر کے شعبے میں تعلقات کو بھی بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی وژن 2030 بہت اہمیت کا حامل ہے اور یہ سعودی معیشت کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری کے مواقع کے لحاظ سے بہترین ملک ہے اور سعودی فرنیچر مینوفیکچررز اور سرمایہ کاروں کو فرنیچر سیکٹر کے علاوہ تعمیراتی اور زرعی شعبہ میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔ وفد کے ممبران سعودی عرب قیام کے دوران عمرہ کی سعادت بھی حاصل کریں گے اور ملک کی خوشحالی اور ترقی کے لئے خصوصی دعائیں کریں گے۔