انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت 9جون تک ملتوی کردی

عدالت نے ملزمان را ؤانوار اور قمر احمد شیخ کی بی کلاس پر فیصلہ محفوظ کرلیا،شعیب شوٹر اور امان اللہ مروت کے وارنٹ گرفتاری جاری

بدھ جون 18:01

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت 9جون تک ملتوی کردی ہے ۔بدھ کو انسداد دہشت گردی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ تفتیشی افسر ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان کی جانب سے عدم پیشی کی درخواست دائر کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت میں مصروف ہوں،یوم علی ؓکے موقع پر سیکورٹی کے امور دیکھنا ہے ،غیر حاضری کی درخواست منظور کی جائے۔

تفتیشی افسر ڈاکٹر رضوان کی عدم پیشی اور ملیر کو سب جیل قرار دینے کا لیٹر پیش نہ کرنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا عدالت کا کہنا تھا کہ گزشتہ سماعت پر بھی آئی او پیش نہیں ہوئے عدالت نے مفرور ملزمان سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت، شعیب شوٹر سمیت 12سے زاہد ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے۔

(جاری ہے)

عدالت نے ملزمان را ؤانوار اور قمر احمد شیخ کی بی کلاس پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو کہ فیصلہ 9جون کو سنایا جائے گا جبکہ عدالت نے را انوار کی درخواست ضمانت پر عدالت نے آئندہ سماعت پر دلائل طلب کرلئے ۔

راؤانوار کو بغیر ہتھکڑی عدالت پیش کیے جانے پر نقیب کے وکیل نے اعتراض کیا جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ دیگر مقدمات میں بھی سیاسی رہنما ہتھکڑیوں کے بغیر پیش ہوتے رہے ہیں۔ وسیم اختر،رؤف صدیقی،،ڈاکٹر عاصم بھی بغیر ہتھکڑیوں کے پیش ہوتے رہے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو میں وکیل مدعی مقدمہ کا کہنا تھا کہ سب جیل قرار دینے سے متعلق نوٹی فکیشن ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے،،عدالت کو ہم نے بتایا ہے کہ مدعی مقدمہ کے گواہوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے،،عدالت نے آئی جی سندھ کو وکیل اور گواہوں کو سیکورٹی دینے کا حکم دیا ہے،،جیل میں بی کلاس دینے پر ہم یہ اعتراض تھا کہ ایک دہشت گرد کو بی کلاس دینا کا اثر دیگر ملزمان پر پڑے گا