تعلیمی نظام میں سیاست کے عمل دخل کو ختم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جمہوریت میں منتخب نمائندے عوام کو جوابدہ ہوتے ،ارشد خان

جمعہ جون 18:53

چارسدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) قومی وطن پارٹی کے سابق ایم پی ارشد خان عمر زئی نے کہا ہے کہ تعلیمی نظام میں سیاست کے عمل دخل کو ختم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جمہوری نظام حکومت میں منتخب نمائندے عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں اور تعلیمی مسائل سمیت دیگر ایشوز پر عوام اداروں کی بجائے اپنے منتخب نمائندوں سے رجوع کر تے ہیں، عوام نے دوبارہ منتخب کیا تو تعلیم پہلی اور صحت دوسری ترجیح ہو گی، اپنے حلقے میں 17سکول ، کامر س کالج، ڈگری کالج اور ایک ٹیکنکل ویکیشنل سنٹر قائم کیا ہے، متعدد پرائمری سکولوں کو مڈل اور مڈل کو ہائی جبکہ ہائی سکولوں کو ہائیر سکنڈری سکولوں میں اپ گریڈ کیا ہے،عوام نے دوبارہ منتخب کیا تو تعلیم پہلی اور صحت دوسری ترجیح ہو گی ۔

وہ اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ ادارے ٹھیک ہو جائے تو اداروں میں سیاسی مداخلت خود بحود ختم ہو جائیگی ۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ دور حکومت میں دو سال تک ٹیکنکل ایجوکیشن کی وزارت ان کے پاس رہی مگر اپنے حلقہ نیابت میں ٹیکنیکل ایجو کیشن کے علاوہ اپنے حلقے میں ڈگری کالج ، کامرس کالج ، 17نئے سکول قائم کئے جبکہ متعدد سکولوں کو اپ گریڈ کیا ۔

انہوں نے کہا کہ نظام تعلیم میں بہتری لانے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنی ذمہ داریاں بطریقہ احسن نبھانا ہو گی ۔ چارسدہ کے متعدد سکولوں میں ابھی تک سرکاری تدریسی کتب فراہم نہیں کئے گئے تو طلباء ایسے حالات میں کس طرح تعلیم سے مستفید ہونگے ۔ انہوں نے کہاکہ قومی وطن پارٹی کے منشور میں تعلیم پہلی اور صحت دوسری ترجیح ہے ۔ عوام نے آئندہ عام انتخابات میں کامیاب کیا تو اپنے حلقہ نیابت میں نئے سکولوں کی تعمیر بالحصوص لڑکیوں کی تعلیم پر حصوصی توجہ دونگا۔ انہو ں نے کہا کہ عوام نے دوبارہ منتخب کیا تو تعلیم پہلی اور صحت دوسری ترجیح ہو گی۔

متعلقہ عنوان :