مقررہ مدت سے زائد قیام کے 90 ہزار درہم کے واجبات، شارجہ میں پاکستانی خاندانی بری طرح پھنس گیا

کراچی سے تعلق رکھنے والے بے روزگار عبدالغنی اپنی اہلیہ اور 7 سالہ بیٹے کیساتھ ایک تنگ کمرے کی رہائش میں رہنے پر مجبور

muhammad ali محمد علی جمعہ جون 21:49

مقررہ مدت سے زائد قیام کے 90 ہزار درہم کے واجبات، شارجہ میں پاکستانی ..
شارجہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) مقررہ مدت سے زائد قیام کے 90 ہزار درہم کے واجبات، شارجہ میں پاکستانی خاندانی بری طرح پھنس گیا، کراچی سے تعلق رکھنے والے بے روزگار عبدالغنی اپنی اہلیہ اور 7 سالہ بیٹے کیساتھ ایک تنگ کمرے کی رہائش میں رہنے پر مجبور ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق شارجہ میں پھنسے ہوئے ایک پاکستانی خاندان کی دردناک کہانی سامنے آئی ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے عبد الغنی نامی شخص نے بہتر روزگار کی تلاش کے سلسلے میں 2012 میں متحدہ عرب امارات کا رخ کیا تھا۔ عبد الغنی کو دبئی کی ایک کمپنی کے آئی ٹی کے شعبہ میں نوکری مل گئی تھی۔ نوکری ملنے کے بعد عبد الغنی نے اپنی اہلیہ اور بیٹے کو دبئی بلا لیا تھا۔ تاہم 2016 کے وسط میں 33 سالہ عبد الغنی اپنی نوکری سے محروم ہوگیا تھا۔

(جاری ہے)

نوکری سے محروم ہونے کے بعد شدید مالی مشکلات کا شکار ہو جانے کے باعث عبد الغنی اپنی اہلیہ اور بیٹے کا ویزہ منسوخ کروانے پر مجبور ہوگیا تھا۔

تاہم ویزے منسوخ کروانے کے باوجود عبد الغنی اپنے اہل خانہ کو پاکستان واپس نہ بھجوا پایا۔ 2017 کے اوائل میں عبد الغنی کو ایک نئی نوکری کی پیش کش ہوئی، تاہم اس پر قائم کریڈٹ کارڈ کے واجبات کی عدم ادائیگی کے کیس اور اس کے باعث ہونے والی گرفتاری کا ریکارڈ دیکھ کر کمپنی نے نوکری کی پیش کش واپس لے لی۔ عبد الغنی بتاتے ہیں کہ جس کمپنی نے نوکری کی پیش کش کی تھی اس کی جانب سے نیا ویزہ فراہم کیا جا رہا تھا جو کلئیر تھا، تاہم اس کے باوجود ایک پرانے مقدمے کو بنیاد بنا کر انہیں نوکری فراہم نہیں کی گئی۔

عبد الغنی بتاتے ہیں کہ اس دوران ان کے بچے اور بیوی پر ویزے کی مقررہ مدت سے زائد قیام کے واجبات بنا دیے گئے۔ انہوں نے اس حوالے سے اماراتی امیگریشن حکام سے ان واجبات کو ختم کرنے کی درخواست کی جس کے بعد انہیں بس یہ رعایت دی گئی کہ اگر وہ ایک ماہ کے اندر واجبات ادا کر سکیں تو ان کے واجبات 8 ہزار درہم تک کر دیے جائیں گے۔ عبد الغنی بتاتے ہیں کہ اس دوران ان پر مزید کچھ کیسز بن گئے اور وہ یہ واجبات ایک ماہ کے اندر ادا نہیں کر سکے۔

اس دوران انہوں نے خود پر قائم ہونے والے تمام کیسز ختم کروا لیے اور جیل میں قید کی سزا بھی بھگتی۔ تاہم رہائی کے بعد ان کے ویزہ واجبات 90 ہزار درہم تک پہنچ چکے تھے۔ غنی بتاتے ہیں کہ وہ شارجہ میں ایک مشترکہ فلیٹ کے ایک چھوٹے سے کمرے میں اپنی بیوی اور بیٹے کے ہمراہ رہنے پر مجبور ہیں۔ ان کے پاس فی الحال کوئی روزگار نہیں۔ وہ چھوٹے موٹے کام کرکے اور ہمدردوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی امداد کے باعث بمشکل گزارا کر رہے ہیں۔

تاہم وہ پاکستان واپس جانا چاہتے ہیں۔ لیکن دبئی امیگریشن حکام انہیں 90 ہزار درہم کے واجبات کی ادائیگی تک پاکستان واپس جانے نہیں دیں گے۔ یہ واجبات ہر گزرتے دن کیساتھ مزید بڑھ رہے ہیں۔ غنی کہتے ہیں کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ وہ یہ واجبات کیسے ادا کریں۔ جبکہ اماراتی حکومت بھی ان کیساتھ کسی قسم کی ہمدردی کا رویہ اختیار نہیں کر رہی۔ میری صحت میں بھی بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔ غنی کہتے ہیں کہ کراچی میں ان کے سابقہ مالک انہیں دوبارہ نوکری دینے کیلئے تیار ہیں، تاہم ایسا صرف تب ہو گا جب وہ واپس جا سکیں گے۔