ریٹائرمنٹ کے بعد کیا کروں گا؟ چیف جسٹس نے اہم اعلان کر دیا

ریٹائرمنٹ سے ایک دن پہلے کہہ کر جاؤں گا کہ مجھے کسی بھی عہدے کی پیشکش کر کے شرمندہ نہ ہوں

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان اتوار جون 12:48

ریٹائرمنٹ کے بعد کیا کروں گا؟ چیف جسٹس نے اہم اعلان کر دیا
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔10 جون 2018ء) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی بھی عہدہ لینے سے انکار کر دیا۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار اس وقت عوام میں مقبول ہو گئے ہیں۔۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اتوار کےروز بھی عدالت لگاتے ہیں۔ایک تقریب کے دوران چیف جسٹس نے کہا تھا کہ میں نے اپنے اہل خانہ سے کہہ دیا ہے کہ میں ایک سال کے لیے آپ کا نہیں اور آپ میرے نہیں۔

اس کے بعد چیف جسٹس نے دن رات کام کیا اور کئی سالوں سے جاری کئی کیسز  کو بھی نمٹا دیا۔تاہم جہاں چیف جسٹس کے کام کو سراہنے والے لوگ موجود ہیں وہیں ان پر کچھ لوگ تنقید بھی کرتے ہیں۔آج سپریم کورٹ لاہور شوگر ملز کی ادائیگی کے حوالے کیس کی سماعت ہوئی دوران سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اہم ریمارکس دئیے۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ اگر میں اسپتال جاتا ہوں تو اس میں کیا غلط ہے۔

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں بچیوں کے 6ہزار سکولوں میں ٹوئلٹ موجود نہیں ہیں اگر اسکولز میں سہولیات دینے کا کہتا ہوں تو اس میں کیا غلط ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ لوگوں کو پینے کا صاف پانی نہیں مل رہا۔ اگر رولز غلط ہوں گے تو اس میں عدالت ضرور مداخلت کرے گی۔۔چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی آفر قبول نہیں کروں گا،ریٹائرمنٹ سے ایک دن پہلے یہ اعلان کر کے جاؤں گا کہ کوئی آفر دے کر  شرمندہ نہ ہوں۔

میں کوئی بھی عہدہ قبول نہیں کروں گا۔جب کہ دوسری طرف آج  نواز شریف اورمریم نواز کےخلاف ٹرائل مکمل کرنےکی درخواست پرسماعت ہوئی۔۔چیف جسٹس کیسربراہی میں دو رکنی بینچ نے سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں احتساب عدالت کی جانب سے شریف کیخلاف ٹرائل مکمل کرنے کی مدت سماعت میں توسیع کی درخواست پر سماعت کی۔ چیف جسٹس نے نواز شریف اور مریم نواز کو کلثوم نواز کی عیادت کے لیے جانے کی اجازت دے دی۔