حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 26 پیسے جبکہ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے14 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6روپے 55 پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 4 روپے 46 پیسے اضافے کا اعلان

muhammad ali محمد علی پیر جون 22:10

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2018ء) حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 26 پیسے جبکہ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے14 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6روپے 55 پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 4 روپے 46 پیسے اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پیر کی صبح خبر سامنے آئی تھی کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

بتایا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کیلئے وزارت خزانہ کی طرف سے بجھوائی گئی سمری وزیراعظم سیکرٹریٹ میں ہے۔ ذرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے سے معیشت کو روزانہ ایک ارب 90 کروڑ روپے کا نقصان ہورہا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی وجہ سے ہونے والے نقصان کو نہ روکا تو معیشت پرمنفی اثرات ہوں گے۔

(جاری ہے)

اسی لیے نگران حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نا چاہتے ہوئے بھی اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔

اب حکومت نے نگران وزیراعظم کی منظوری سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 26 پیسے جبکہ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے14 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6روپے 55 پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 4 روپے 46 پیسے اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔

پٹرول کی نئی قیمت91 روپے 96 پیسے، لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 74 روپے 99 پیسے، مٹی کےتیل کی قیمت میں 4 روپے46 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 105روپے 31پیسے جبکہ مٹی کے تیل کی نئی قیمت 84 روپے 34 پیسے ہو گئی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12بجے سے ہوگا۔ واضح رہے کہ اوگرا نے یکم جون سے پیٹرول کی قیمت 8 روپے 37 پیسے، ڈیزل ساڑھے 12 روپے اور مٹی کا تیل 8 روپے 30 پیسے فی لیٹر مہنگا کرنے کی سفارش کی تھی۔ گزشتہ دور حکومت میں اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری ارسال کی تھی تاہم حکومت نے اس کا فیصلہ آنیوالی نگران حکومت پر چھوڑدیا تھا۔