روپے کی قدر میں کمی نے کروڑوں افراد کو خط غربت سے نیچے دھکیل دیا ہے، شاہد رشید بٹ

بدھ جون 20:10

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء) اسلام آباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز کے سرپرست شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ سابقہ اور حالیہ حکومت نے چھ ماہ کے دوران تین قسطوں میں روپے کی قدر میں تیرہ فیصد کمی کر کے کروڑوں افراد کو خط غربت سے نیچے دھکیل دیا ہے مگر درامدات میں کمی سمیت مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کئے جا سکے ہیں۔روپے کی قدر میں کمی نے معیشت کی کمزوری واضع کر دی ہے۔

قرضوں کی بنیاد پر ملک کو ایشین ٹائیگر بنانے کے دعویٰ کرنے والوں نے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اقتصادی اصلاحات کا نعم البدل سمجھنے والے اکنامک منیجر غلطی پر ہیں اور انکی ناکامیوں کی قیمت عوام ادا کر رہی ہے۔شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ حکومت کی یقین دہانیوں کے باوجود غیر اعلانیہ طور پرروپے کومسلسل کمزور کرنے اور عوام اور کاروباری برادری اندھیرے میں رکھنے کی پالیسی سے عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔

(جاری ہے)

کرنسی کی قدر کم کرنے جیسے اقدامات سے برامدات میں اضافہ اورامپورٹ بل کم نہیں ہو گا بلکہ معاشی سرگرمیاںاور شرح نموکم ہو جائیں گی اور مہنگائی بڑھے گی۔اب مرکزی بینک شرح سود میں اضافہ کرے گا جس سے نجی شعبہ کو قرض کے حصول میں مزید دشواریوں کا سامنا کرنا ہو گا۔انھوں نے کہا کہ روپے کے زوال نے سابقہ حکومت کے اقتصادی ترقی کے بلند بانگ دعووں کی حقیقت عیاں کر دی ہے جس نے پانچ سال تک معاشی اصلاحات کو نظر انداز کر کے معاشی ترقی کا ڈھونگ رچایا۔

اس چالبازی میں انھیں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور تیس کے قریب دیگر عالمی اداروں کی آشیر باد حاصل تھی جو پانچ سال تک پاکستان کی معاشی پالیسیوں کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے رہے مگر اب غبارے سے ہوا نکل گئی ہے جس سے انکی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے۔ معیشت کو مغربی اداروں کی مرضی کے مطابق چلانے سے استحکام ممکن ہی نہیں ہے۔۔نگران حکومت اس سلسلہ میں آئندہ حکومت کا انتظار کئے بغیر ضروری اقدامات کرے ورنہ دیر ہو جائے گی۔