احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کیخلاف اثاثہ جات ریفرنس میں شریک ملزم سعید احمد کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

نیب کی طرف سے جو الزامات لگائے گئے ہیں ان الزامات پر نیب قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا ،ْنیب میرے موکل کیخلاف کیس ثابت نہیں کرسکا ،ْملزم کے وکیل حشمت حبیب کے دلائل

بدھ جون 21:27

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء) اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ اور مسلم لیگ (ن)کے محمد اسحاق ڈار کیخلاف اثاثہ جات ریفرنس میں شریک ملزم سعید احمد کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جبکہ ملزم کے وکیل حشمت حبیب نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیب میرے موکل کیخلاف کیس ثابت نہیں کرسکا۔ بدھ کو احتساب عدالت میں اسحاق ڈار کیخلاف اثاثہ جات ریفرنس پر سماعت جج محمد بشیر نے کی۔

شریک ملزم سعید احمد کی بریت کی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے ان کے وکیل حشمت حبیب نے کہا کہ اب تک پیش کئے گئے گواہان سے یہ میرے موکل کے خلاف کیس ثابت نہیں کر سکے ،نیب کے موقف کو سچ مان لیا جائے تو بھی میرے موکل پر کیس نہیں بنتا،نیب کی طرف سے جو الزامات لگائے گئے ہیں ان الزامات پر نیب قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا،ہر برانچ میں کھلنے والے ہر اکاونٹ کی تفصیلات سعید احمد کو معلوم ہونا ضروری نہیں ۔

(جاری ہے)

نیب پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ فراڈ بڑی مہارت سے کیا گیا ہے،اتنی بڑی رقم پبلک آفس ہولڈر کے اکائونٹ میں نہیں آ سکتی،کیس میں مرکزی ملزم کو یہ رقم پاکستان لانے کیلئے کسی ایسے کوالیفائیڈ اور اہم عہدے پر فائز بندے کی ضرورت تھی،ملزم کو ایسے بندے کی تلاش تھی جس کے اکائونٹ میں رقم آنے سے کسی کو شک نہ پڑے، رقم منتقلی کیلئے کھولے گئے اکائونٹس میں سعید احمد نے ملزم کی معاونت کی، اب یہ نہیں کہہ سکتے کہ انکے نام پر کھولے گئے اکائونٹس کا انہیں علم نہیں تھا، کیس ہوسکتا ہے کہ سعید احمد ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک تھے لیکن انہیں اپنے نام پر کھولے گئے اکانٹس بارے معلوم نہیں تھا،ان کے نام پر کھلے اکانٹس میں لاکھوں ڈالرز کی ٹرانزکشنز ہوتی رہیں لیکن ان کا کوئی ردعمل نہیں آیا،ہمارے پاس ملزم کے خلاف بے شمار شواہد موجود ہیں ، کیس ثابت کرنے کا موقع دیا جائے۔

اسحاق ڈار نے کچھ عرصہ قبل سینٹ کے لئے کاغزات نامزدگی جمع کرائے،سعید احمد نے اب اسحاق ڈار کیلے نیشنل بینک میں ایک اور اکائونٹ کھولا،یہ اکائونٹ نہ کھلتا تو اسحاق ڈار سینٹ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے تھے،،عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جو بیس جون کو سنایا جائیگا۔۔عدالت نے استغاثہ کے گواہ غزالی زاہد کا بیان بھی قلمبند کرلیا۔گواہ نے عدالت کو بتایا کہ جنرل منیجر نادرا کے طور پر نادرا ہیڈکوارٹر میں فرائض سرانجام دے رہا ہوں ، سعید احمد کے شناختی کارڈ اور دیگر ریکارڈ کے ہمراہ 11نومبر 2017کو نیب کے سامنے پیش ہوا اور سعید احمد کے شناختی کارڈ کا فارم الف اور ب پیش کیا ۔