خبردار!۔۔۔پاکستان نہ آنا،پرویز مشرف کو مشورہ دینے والاکون نکلا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات جون 12:40

خبردار!۔۔۔پاکستان نہ آنا،پرویز مشرف کو مشورہ دینے والاکون نکلا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 جون 2018ء) : سابق صدر پرویز مشرف کی طلبی سے متعلق آج سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران پرویز مشرف کے وکیل نے بتایا کہ پرویز مشرف نے وطن نہ آنے کا فیصلہ کیا ہے وہ وطن واپس آنا تو چاہتے ہیں لیکن موجودہ حالات اور چھٹیوں کے باعث وہ پاکستان نہیں آ رہے۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف کو بعض قریبی دوستوں نے وطن واپس نہ آنے کا مشورہ دیا ہے۔

ان کے قریبی اور مخلص دوستوں نے مشورہ دیا کہ وطن واپس آنے کی صورت میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں لہٰذا بہتر یہی ہے کہ آپ وطن واپس نہ آئیں،ذرائع کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف کے قریبی دوستوں جن میں بعض ریٹائرڈ فوجی افسران بھی شامل ہیں، نے پرویز مشرف کو مشورہ دیا کہ وہ موجودہ حالات میں پاکستان آنے سے گریز کریں کیونکہ موجودہ صورتحال میں اگر وہ پاکستان آتے ہیں تو ان کے لیے کافی مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔

(جاری ہے)

سابق صدر نے قریبی دوستوں کے مشورے پر سنجیدگی سے غور کرنا شروع کیا ، جس کے بعد اس بات کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا کہ پرویز مشرف پاکستان نہیں آئیں گے۔ تاہم نادرا اور پاسپورٹ آفس نے سابق صدر کے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کو بحال کر رکھا ہے۔۔پرویز مشرف کے وطن واپس نہ آنے کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا عبوری حکم واپس لے لیا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے انہیں اگلے ماہ ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی بھی اجازت دی تھی اور سپریم کورٹ نے سابق فوجی صدر کو 13 جون کو ذاتی حیثیت میں سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری برانچ میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔