بسیارخوری‘موٹاپا ،شوگر،بلڈ پریشرسمیت متعدد امراض کا باعث بنتی ہے

عید پر روزہ دار افرادکھانے پینے میں اعتدال برتیں :حکیم قاضی ایم اے خالد

جمعرات جون 19:41

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2018ء) بسیارخوری صحت کیلئے سخت نقصان دہ ہے اعصابی بیماریاں‘دماغی کمزوری ‘ہائی بلڈ پریشر‘شوگر،ْموٹاپااور پیٹ کی متعدد امراض زیادہ کھانے سے ہی پیدا ہوتی ہیں۔مہینہ بھر روزے رکھنے کے بعد معدہ‘ جگر‘انتڑیوں‘ گردوں‘ پٹھوںاور جسم کے دیگر اعضاء کو مختلف امراض سے شفااورجو آرام میسر آتا ہے بعض افراد اسے ایک ہی دن میں خوب کھاپی کرضائع کر بیٹھتے ہیں۔

اس امر کا اظہارمرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے عیدالفطر کے موقع پرعوام الناس کو کھانے پینے میںخصوصی احتیاط کا مشورہ دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ عید کے دن مرغن غذائیںمثلاًروسٹ بروسٹ ‘تکے کباب ‘کڑاہی گوشت ‘ہریسہ ‘قورمہ ‘بریانی ‘حلوہ پوری ‘قتلمہ ‘کیک‘ مٹھائیاں وغیرہ اورکولا مشروبات کا بے انتہا استعمال کرکے بیمار ہوجاتے ہیں۔

(جاری ہے)

غذائی بے اعتدالی کے باعث عید کے دنوں میں ڈائریا(پیچش )اسہال اور نظام ہضم کی خرابی کے مریضوں میں انتہائی اضافہ ہو جاتا ہے ۔۔عید کے ایام میں بیشتر ذیابیطس ‘بلڈ پریشراور دل کے مریض بھی غذائی بد احتیاطی کے باعث اپنے لئے مزید پریشانیاں مول لیتے ہیںلہذا اس سلسلے میں احتیاط کی پابندی لازم ہے روزہ دارافراد کو ایک ماہ تک اپنے جملہ اعضاء کو آرام دینے کے بعد زود ہضم غذا کی ضرورت ہوتی ہے لہذایکدم بہت زیادہ مرغن غذائووںکے استعمال سے بچیں۔

عید کے دن ناشتے میں دودھ سویاںدوپہرکو سبزی گوشت جبکہ رات کو بھی سادہ غذا کا استعمال کریں اس دوران موسمی پھلوں کا استعمال نیزکولا مشروبات کی جگہ فریش جوسز زیادہ سود مند ہیں۔یاد رہے کہ بسیارخوری صحت کیلئے سخت نقصان دہ ہے اعصابی بیماریاں‘دماغی کمزوری ‘ہائی بلڈ پریشر‘شوگراور پیٹ کی متعدد امراض زیادہ کھانے سے ہی پیدا ہوتی ہیں۔ رمضان المبارک ہمیں جو نظم وضبط اور اعتدال سکھاتا ہے رمضان کے بعد بھی اسی تسلسل کو قائم رکھ کر ہم مستقل صحتمندرہ سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :