کراچی کے تاجروں نے رواں سال عید سیل سیزن کو مجموعی طور پر غیر تسلّی بخش قرار دے دیا

عید کی روائتی خریداری کے حوالے سے پہچان رکھنے والی اہم مارکیٹیں توقعات کے برعکس خریداروں کی توجہ حاصل نہ کرسکیں رمضان المبارک کے دوسرے عشرے میں خریداروں کا مارکیٹوں میں امنڈ آنے والا ریلا مصنوعی ثابت ہوا

پیر جون 17:20

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2018ء) کراچی کے تاجروں نے رواں سال عید سیل سیزن کو مجموعی طور پر غیر تسلّی بخش قرار دے دیا۔

(جاری ہے)

عید کی روائتی خریداری کے حوالے سے پہچان رکھنے والی اہم مارکیٹیں توقعات کے برعکس خریداروں کی توجہ حاصل نہ کرسکیں، خریداری کا رحجان جنرل اسٹورز سے سپر مارکیٹوں اور مارکیٹوں سے شاپنگ مالز کی جانب ہوگیا، رمضان المبارک کے دوسرے عشرے میں خریداروں کا مارکیٹوں میں امنڈ آنے والا ریلا مصنوعی ثابت ہوا، رواں سال 60ارب روپے کا متوقع عید سیل سیزن گذشتہ سال کی مانند 40ارب روپے تک محدود ہا، تاجروں کے مطابق معاشی حالات سازگار ہوں تو معاشی حب کراچی کم از کم 100ارب روپے کا عید سیل سیزن ہے، اس سلسلے میں آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے پریس و میڈیا کو جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ڈالر اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے سفید کالر افراد کی مشکلات بڑھ گئیں، ہوشربا مہنگائی،، بیروزگاری اور قوتِ خرید میں کمی کے باعث خریداروں کے ارمانوں اور دکانداروں کی امیدوں پر پانی پھرگیا،استطاعت سے محروم عوام عید کی خریداری محدود کرنے پر مجبور ہوگئے ، بیشتربازاروں میں نظر آنے والی گہما گہمی ونڈو شاپنگ ثابت ہوئی، تجارتی مراکز میں چہل پہل کا سب سے زیادہ فائدہ ٹریفک پولیس کو ہوا، نو پارکنگ سے گاڑیاں اٹھانے اور جرمانوں کا سلسلہ زور و شور سے جاری رہا، جیب کتروں کی بھی چاندی ہوگئی، حفاظتی پولیس نے سنیپ چیکنگ کی آڑ میں جی بھر کر عیدی بنائی، ، بیشتر دکانوں میں فروخت کیلئے تیار کردہ60 فیصد سے زائد مال فروخت نہ ہوسکا، گذشتہ سال کے مقابلے میں فروخت میں20فیصد تک کمی رہی، تاجروں کو عید بعد کاریگروں اور کارخانے داروں کو رقوم کی ادائیگی کے لالے پڑگئے، انھوں نے کہا کہ رمضان المبارک جیسے اہم ترین سیل سیزن میں توقع کے خلاف خریداری میں کمی موسمِ بہار میں باغ اجڑنے کے مترادف ہے، بازاروں میں ابتدائی طور پر نظر آنے والی رونقیں اور گہما گہمی تاجروں کیلئے انتہائی حوصلہ افزاء تھی لیکن قوتِ خرید میں کمی اور مہنگائی کے باعث حقیقی خریدار ناپید رہے،80فیصد خریداری خواتین اور بچوں کے ملبوسات تک محدود رہی، گذشتہ سال کی طرح رواں سال رمضان المبارک کا آخری عشرہ کاروباری طور پر توقعات کے برخلاف رہا، پتھارے، کیبن، اسٹالز اور ٹھیلے متوسط اور کمتر وسائل کے حامل طبقے کی خریداری کا محور بن گئے، انھوں نے کہا کہ چند بڑے بازاروں کے علاوہ شہر کے بیشتر تجارتی مراکز خریداروں کے منتظر رہے، بڑی مارکیٹوں میںلگائی جانے والی رعائتی سیل بھی خریداروں کو متوجہ نہ کرسکی، مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات کے مقابلے میں درآمدی اشیاء کی خریداری عروج پر رہی سب سے زیادہ پذیرائی چینی مصنوعات کو حاصل ہوئی، رواں سال ملک کے مختلف شہروں سے منگوائی گئی سلے سلائے مردانہ و زنانہ کپڑوں کی بہترین ورائٹی بھی استطاعت سے محروم خریداروں کیلئے پُر کشش ثابت نہ ہوسکی، خریداری ریڈی میڈ گارمنٹس، جوتے، مصنوعی زیورات اور زیبائش کے سامان تک محدود رہی، گل پلازہ، گولڈ مارک اور چند شاپنگ مالز حسبِ سابق خریداروں کی خصوصی توجہ کا مرکز رہے۔