شام،غوطہ کے محاصرے کے دوران شامی فوج اور اتحادیوں نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا،محققین

65 لاکھ افراد کو شدید بم باری اور قحط کا نشانہ بنایا گیا،140 انٹرویو، تصاویر، وڈیوز، سیٹلائٹ کلپسپر مشتمل رپورٹ

جمعرات جون 13:51

دمشق(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) اقوام متحدہ کے تحقیق کاروں نے بتایا ہے کہغوطہ کے محاصرے کے دوران شامی فوج اور اتحادیوں نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا، تقریبا 2.65 لاکھ افراد کو شدید بم باری اور "دانستہ طور قحط"" کا نشانہ بنایا گیا،رپورٹ میں 140 انٹرویوز کے علاوہ تصاویر، وڈیوز، سیٹلائٹ کلپس اور میڈیکل ریکارڈز کا سہارا لیا گیا ہے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اقوام متحدہ کے تحقیق کاروں نے بتایا ہے کہ شام کے علاقے مشرقی غوطہ کے طویل محاصرے کے دوران شامی فوج اور اس کی ہمنوا فورسز نے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس دوران تقریبا 2.65 لاکھ افراد کو شدید بم باری اور "دانستہ طور قحط"" کا نشانہ بنایا گیا۔تحقیق کاروں کے مطابق اپوزیشن کے 20 ہزار کے قریب جنگجو جن میں بعض کا تعلق ""دہشت گرد جماعتوں" سے ہے، وہ محصور علاقے غوطہ شرقیہ میں مورچہ بند ہو گئے اور انہوں نے دارالحکومت دمشق کو گولہ باری کا نشانہ بنایا۔

(جاری ہے)

اس دوران ہونے والے حملوں کے نتیجے میں متعدد لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے۔ یہ کارروائیاں جنگی جرائم کی حد تک پہنچ گئیں۔شام کے حوالے سے بین تحقیقات کی آزاد بین الاقوامی کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں 140 انٹرویوز کے علاوہ تصاویر، وڈیوز، سیٹلائٹ کلپس اور میڈیکل ریکارڈز کا سہارا لیا گیا ہے۔