بھارت میں خود کشی کی شرح میں اضافہ

خودکشی کرنے والے سب سے زیادہ افراد کی عمریں 30 سے 45 برس تھی۔رپورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات جون 14:25

بھارت میں خود کشی کی شرح میں اضافہ
نئی دہلی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔21 جون۔2018ء) بھارت میں سال 2000 سے 2015 کے درمیانی عرصے میں خود کشی کی شرح میں 23 فیصد اضافہ رہا، خودکشی کرنے والے سب سے زیادہ افراد کی عمریں 30 سے 45 برس تھی۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق عمر کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر خود کشی کرنےوالوں کی عمریں 18 سے 30 برس تھی۔نیشنل ہیلتھ پروفائل 2018 کے مطابق بھارت میں سال 2015 میں ک±ل 1 لاکھ 33 ہزار 623 خودکشی کے واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ سال 2000 میں 1 لاکھ 8 ہزار 593 خودکشیاں کی گئیں, اس اعتبار سے شرح خودکشی میں 23 فیصد اضافہ رہا۔

جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق 30 سے 45 سال کی عمر میں خودکشی کرنےوالوں کی تعداد 44 ہزار 593 رہی اور 43 ہزار 852 کی جانب سے خود کشی کرنے والوں کی عمریں 18 سے 30 سال تھی۔

(جاری ہے)

بچوں میں خود کشی کے بڑھتے ہوئے رحجانات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا، رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2015 میں 14 سال سے کم عمر کے بچوں میں خودکشی کی شرح 1 فیصد جبکہ 14 سے 18 کے نوعمر بچوں میں خود کشی کا تناسب 6 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ 60 سال کی عمر سے زائد افراد نے خودکشی کے ذریعے اپنی زندگیوں کے چراغ گل کیے اور ان کی شرح اموات کا تناسب 7.77 فیصد رہا۔فراہم کردہ شماریات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خود کشی کی شرح مردوں میں غیر معمولی رہی، 2015 میں 91 ہزار 528 اور 2005 میں 66 ہزار 32 مردوں نے خودکشی کیں جبکہ 2010 میں 87 ہزار 180 خواتین نے اپنے ہی ہاتھوں زندگی کا خاتمہ کیا۔رپورٹ کے مطابق سال 15-2000 کے درمیانی عرصے میں خودکشی کے رحجانات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔واضح رہے کہ بھارت میں اوسطاعمر 63.35 سال ہے۔سماجی ماہرین کا کہنا ہے سماجی و ثفاقتی مسائل، امتیازی سلوک اور بہتر ملازمت کے لیے مسابقت کا سخت ماحول نوجوانوں میں خود کشی کے اسباب ہیں۔