’ہیومن رائٹس واچ‘ کی امریکہ کی انسانی حقوق سے متعلق پالیسیوں پر شدید تنقید

امریکہ کھلم کھلا انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی راہ پر چل رہا ہے،اپنی ناکامیوں کا دوسروں کو قصور وار ٹھہرانا امریکی حکومت کا پسندیدہ مشغلہ ہے، بیان

جمعرات جون 17:30

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے امریکہ کی انسانی حقوق سے متعلق پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کھلم کھلا انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی راہ پر چل رہا ہے۔’ہیومن رائٹس واچ‘ کی جانب سے جاری بیان میں امریکی حکومت کے الزامات مسترد کردیئے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ اپنی ناکامیوں کا دوسروں کو قصور وار ٹھہرانا امریکی حکومت کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز قطر سے ’الجزیرہ‘ چینل نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ اقوام متحدہ میں تعینات امریکی مندوبہ نیکی ھیلی نے انسانی حقوق کی تنظیموں کو مکتوبات ارسال کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ امریکا انسانی حقوق کونسل سے اس لیے باہر ہوا ہے کہ کونسل میں اصلاحات کے لیے اس کی کوششوں میں رخنہ اندازی کی کوشش کی گئی تھی۔

(جاری ہے)

نیکی ھیلی نے مزید کہا کہ امریکہ نے گذشتہ ماہ انسانی حقوق کونسل میں اصلاحات کے لیے ایک قرارداد پیش کی تھی جس میں کونسل میں ترامیم کی سفارش کی گئی تھی مگر کونسل کے رکن ممالک کی طرف سے اس پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

’ہیومن رائٹس واچ‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ’کینتھ روتھ‘ نے اس مکتوب کے بعد امریکہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کونسل کو نکیل ڈالنے کے بجائے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی ’گمران کن‘ پالیسی ٹھیک کریں۔انہوں نے کہا کہ اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانا امریکیوں کی عادت ہے۔ امریکی قیادت جو کچھ کررہی ہے وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں شمار ہوتا ہے۔

انسانی حقوق کے مندوب نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ ملک کی جنوبی سرحد پر پناہ گزینوں کی توہین کررہے ہیں۔ امریکا کی یہ پالیسی انسانی حقوق کے اصولوں کی خلاف ورزی شمار ہوتی ہے۔روتھ نے کہا کہ امریکی حکومت نے اپنے مخالفین کی تفصیلات جمع کرنے کی دھمکی دی مگر انسانی حقوق کی کسی آزاد تنظیم اس کی حمایت نہیں کی۔