موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں سیاست کے حوالہ سے ہر پاکستانی کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہو گا، حافظ محمد سعید

امریکہ بھارت گٹھ جوڑ سے پیدا صورتحال میں پاکستانی انتخابات کے نتائج دوررس اثرات مرتب کریں گے نظریہ پاکستان پر یقین رکھنے والوں کی مکمل حمایت کریں گے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کیخلاف بھرپور آواز بلند کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے، غاصب بھارتی فوج کے ظلم و بربریت پر خاموش نہیں رہ سکتے،وفود سے گفتگو

جمعہ جون 21:11

موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں سیاست کے حوالہ سے ہر پاکستانی کو ذمہ ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں سیاست کے حوالہ سے ہر پاکستانی کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔۔امریکہ بھارت گٹھ جوڑ سے پیدا صورتحال میں پاکستانی انتخابات کے نتائج دوررس اثرات مرتب کریں گے۔نظریہ پاکستان پر یقین رکھنے والوں کی مکمل حمایت کریں گے۔

پاکستان کی سالمیت اور استحکام سب سے اہم ہے۔عالمی طاقتوں کے پروردہ اور بھارت نواز ایجنڈے پر کام کرنیوالوں سے قوم کوخبردار کرنا ہو گا۔ جامع مسجد القادسیہ میں خطبہ جمعہ اور بعد ازاں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ بیرونی قوتوں کو ہماری سیاسی اور ریلیف سرگرمیاں بھی برداشت نہیں ہو رہیں۔

(جاری ہے)

خدمت انسانیت کا کام جاری رکھیں گے۔

اس وقت اسلام اور کفر کے مابین جنگ جاری ہے۔ ہم نے دشمن کے مقابلہ میں یہ جنگ جیتنی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کیخلاف بھرپور آواز بلند کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ غاصب بھارتی فوج کے ظلم و بربریت پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ کشمیر کا مقدمہ دنیا کے سامنے پیش کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی زندگی کا ہر عمل قرآن و سنت کے مطابق ہونا چاہیے۔

عبادات سمیت سیاست، معیشت، معاشرت اور اخلاقیات میں سیرت رسول ﷺ سے رہنمائی لینے کی ضرورت ہے۔ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنی اصلاح کرے‘ اعمال صالح کرے اوراللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرے۔ اسی طرح پوری قوم اللہ کے سامنے جھک جائے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگے۔۔حافظ محمد سعید نے کہا کہ بیرونی قوتوں کواصل دشمنی اسلام سے ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ مسلمان ان کے نظاموں کے تابع بن کر رہیں اور ان کے سیاسی و معاشی ڈھانچوں کو تسلیم کریں۔

اگر مسلمان دین پر عمل کریں گے تو دشمن قوتیں ان سے کبھی راضی نہیں ہوںگی۔صلیبی و یہودیوں کے نظام خواہشات اور ظلم پر مبنی ہیں جبکہ مسلمانوں کا نظام اللہ کے حکم پر مبنی ہے۔ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ باطل نظاموں اور ڈھانچوں کی بجائے اس زمین پر قرآن و سنت کو نافذ کریں۔انہوں نے کہا کہ یہ ملک اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ہم نے دوقومی نظریہ پر سب کو اکٹھا کرنا اوراسے سیاست کی بنیاد بنانا ہے۔

مدینہ طیبہ کی طرح پاکستان بھی لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر مسلمانوں کوملا۔ ہم نے اس ملک میں اپنے ایجنڈے پروان نہیں چڑھانے بلکہ وہی کام کرنا ہے جو اللہ کے رسول ﷺ نے مدینہ میں کیا تھا۔ نبی اکرم ﷺ کی سیرت پر عمل کرنے سے ہی مسلمانوں کوکامیابیاں ملیں گی۔ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کوبھی وہی آزادی دلا سکیں گے جو نظریہ پاکستان پر مجتمع ہوں گے۔