بھارت میں مسلم تعصب سرکاری سطح پر بھی عیاں

گئوکشی کی افواہ پر قتل کئے جانے والے مسلمان کی لاش کو پولیس گھیسٹتی رہی،وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل پولیس نے سرکاری ٹوئٹر پر معافی مانگ لی، سزا کے طور پر تینوں اہلکار محض ٹرانسفر کر دئے گئے

جمعہ جون 21:42

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) بھارت میں مسلم تعصب سرکاری سطح پر بھی عیاں ہو گیا، گئوکشی کی افواہ پر قتل کئے جانے والے مسلمان کی لاش کو پولیس گھیسٹتی رہی، وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے سرکاری ٹوئٹر ہینڈل سے معافی مانگی، پولیس کے تینوں اہلکاروں کو بطور سزامحض ٹرانسفرکیا گیا۔۔بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ دنوں ہاپوڑ میں گئوکشی کی افواہ پر بھیڑ نے قاسم اور سمیع الدین کو حملہ کرکے قتل کردیا تھا۔

سوشل میڈیا پر تصویر وائرل ہونے کے بعدپولیس نے اپنے سرکاری ٹویٹر ہینڈل سے معافی مانگی۔ پولیس اہلکاروں نے ڈائل 100 اور ایمبولینس کو فون کیا۔ جب تک کوئی گاڑی آتی، اس سے قبل وہاں موجود لوگوں نے گھسیٹتے ہوئے لاش کو سڑک پر لانے کی کوشش کی۔

(جاری ہے)

اسی دوران کسی نے اس کی تصویر کھینچ لی۔اس تصویر میں نظر آ رہا ہے کہ 4 افراد خون میں لت پت محمد قاسم کے ہاتھ پیر پکڑ کرگھسیٹتے ہوئے لے جا رہے ہیں۔

ان کے ساتھ پولیس والے بھی چل رہے ہیں۔ یو پی پولیس نے مذکورہ معاملہ کو روڈ ریج میں درج کیا تھا اور اب اس تصویر کے وائرل ہو جانے کے بعد یو پی پولیس نے معافی مانگی ہے۔ محکمہ پولیس نے انسپکٹر اشونی کمار، کانسٹیبل لا اور کانسٹیبل اشوک کمار سے جواب طلب کیا ہے۔ یوپی پولیس نے ٹویٹ کر کے کہا کہ ہم اس واقعہ کے لئے معافی چاہتے ہیں۔تینوں پولیس اہلکاروں کا ٹرانسفر کرکے تفتیش کا حکم دے دیا گیا۔