سندھ یوتھ پالیسی کی روشنی میں تمام اضلاع میں یوتھ ڈویلپمنٹ کمیٹیاں قائم کی جائیں گی

ہفتہ جون 17:36

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) سندھ یوتھ پالیسی کی روشنی میں حکومت سندھ صوبے کے تمام اضلاع میں یوتھ ڈویلپمنٹ کمیٹیاں قائم کرے گی جس کے ذریعے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں شریک کر کے ان کی صلاحیتوں میں مزید نکھارا جائے گا۔ اس بات کا اعلان سماجی تنظیم برگد، آکسفیم کے زیراہتمام سندھ کے محکمہ کھیل و امور نوجوانان کے تعاون سے مقامی ہوٹل میں گزشتہ دنوں منعقدہ دو روزہ ورکشاپ میں کیا گیا۔

ورکشاپ کا عنوان تھا، سندھ یوتھ پالیسی 2018 تیاری سے عملدرآمد تک، نوجوانوں کے لیے ایجنڈا۔ ورکشاپ میں پورے صوبے خصوصا جامشورو کے منصوبے امپاور یوتھ فار ورک ( ای وائی ڈبلیو) کے درجنوں نوجوانوں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد سندھ یوتھ پالیسی پر عملدرآمد کی کوششوں کو معاونت فراہم کرنا ہے۔

(جاری ہے)

ورکشاپ کے مقررین میں مہمان خصوصی سندھ کے نگران وزیرکھیل و امور نوجوانان ڈاکٹر جنید علی شاہ ، سیکریٹری کھیل و امور نوجوانان ڈاکٹر نیاز علی عباسی ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر برگد صبیحہ شاہین و دیگر شامل تھے۔

ورکشاپ کے دوران نوجوانوں سے گفت گو کرتے ہوئے ڈاکٹر جنید علی شاہ نے کہاکہ سندھ نے باقاعدہ طور پر اپنی یوتھ پالیسی بنالی ہے اور آنے والی حکومت پر لازم ہے کہ وہ نوجوانوں پر سرمایہ کاری کریں۔ اس پالیسی سے نوجوانوں کو خودمختاری کے حصول میں بہت مدد ملے گی۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ صوبے کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور اپنے متعلقہ سرکاری افسران، منتخب عوامی نمائندوں اور وزراء سے رابطے رکھیں۔

سیکریٹری کھیل و امور نوجوانان ڈاکٹر نیاز علی عباسی نے کہا کہ سندھ یوتھ پالیسی پر من و عن عمل کیا جائے گا۔ حکومت نوجوانوں کی ترقی کے منصوبوں میں خصوصا لڑکیوں کو زیادہ مواقع دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں اور حکومت کے مابین بھی باہمی رابطوں پر زور دیا۔ ڈاکٹر نیاز علی عباسی نے بتایا کہ سندھ یوتھ پالیسی کی روشنی میں حکومت سندھ کے ہر ضلع میں یوتھ ڈویلپمنٹ کمیٹی بنارہی ہے جس میں لڑکوں اور لڑکیوں کی شمولیت کو لازمی بنایا جائے گا۔

اس سلسلے میں متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو بھی آن بورڈ لے لیا گیا ہے۔ اس دوران گفت گو کرتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر برگد صبیحہ شاہین نے حکومت سندھ،، آکسفیم اور یوتھ گروپس کا شکریہ ادا کیا جن کی شمولیت اورکوششوں سے پالیسی تشکیل دی گئی۔ ورکشاپ کے دوران نوجوانوں کو سندھ یوتھ پالیسی 2018 کے خدوخال ، سندھ میں گورننس اسٹرکچر اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں آگاہی دی گئی۔

ورکشاپ کے شرکاء نے اس دوران یوتھ پالیسی پر عملدرآمد کے سلسلے میں اپنے منصوبے بھی بنا کر دئیے جو محکمہ کھیل و امور نوجوانان سندھ کو پیش کیے جائیں گے۔ ورکشاپ میں اظہار خیال کرتے ہوئے نوجوانوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ یوتھ پالیسی پر جلد عملدرآمد شروع کیا جائے اور اس پالیسی دستاویز کو سندھ زبان میں بھی شائع کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان اس سے استفاد ہ حاصل کر سکیں۔ ورکشاپ کے ریسورس پرسنز میں خرم شہزاد، پروگرام آفیسر آکسفیم پاکستان بشریٰ احمد، رضوان جعفر، ثاقب نیاز اور ڈاکٹر نعمان علی چوہدری شامل تھے۔