ایڈیٹرس گلڈ کی لال سنگھ کے کشمیری صحافیوں کے خلاف دھمکی آمیز بیان کی شدید مذمت

لال سنگھ سے شجاعت بخاری کے قتل کے بارے میں تفتیش کی جائے

اتوار جون 12:52

سرینگر۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میںصحافیوں کی تنظیم کشمیر ایڈیٹرس گلڈ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما لال سنگھ کی طرف سے کشمیری صحافیوں کے خلاف دھمکی آمیز بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مجرمانہ فعل قرار دیا ہے ۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ایڈیٹرس گلڈ نے سرینگر میں ایک بیان میںواضح کیا ہے کہ اس طرح کے حملوں کا مقابلہ کیا جائے گا۔

ا یڈیٹرس گلڈ نے کہاکہ لال سنگھ کا بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انہیں شجاعت بخاری کے قتل کے بارے میں کچھ معلومات ہیںاور اس سلسلے میں ان سے تفتیش کی جانی چاہیے۔ کشمیر ایڈیٹرس گلڈ نے کہا کہ وہ لال سنگھ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔گلڈنے کہا ہے کہ لال سنگھ نے بظاہر کشمیر میڈیا اور سرینگر میں حالیہ قتل پر ممکنہ معلومات سے متعلق بات کی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ شجاعت بخاری کے قتل کیس کی تحقیقات میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ گلڈ نے کشمیری میڈیا کو گزشتہ ایک سال سے سماجی میڈیا پر بدنام کرنے کے لیے جاری مہم کو بند کرانے کا مطالبہ کیا۔ گلڈ نے کہا کہ شجاعت بخاری کے قتل کے بعد پولیس گزشتہ کئی دنوں سے سرینگر کے تمام اخبارات کو نوٹسز جاری کر رہی ہے اور کچھ مشتہرخبروں کے ذرائع اور تفصیلات طلب کر رہی ہے۔

گلڈ نے اس عمل کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہاکہ کشمیر ایڈیٹرس گلڈ ان نوٹسز کو میڈیا کو ہراساں کرنے اور شجاعت بخاری کے قتل کے بعد پیدا شدہ صورتحال کو ان خطوط پرجن کا ذکر لال سنگھ کررہا ہے، استوار کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتا ہے۔ لال سنگھ نے کشمیری میڈیا کو ایک لائن کھینچنے یا شجاعت بخاری کی طرح خمیازہ بھگتنے کے لیے تیاررہنے کی دھمکی دی تھی۔ یہ وہی لال سنگھ ہے جس نے کٹھوعہ میں ایک معصوم بچی کی آبرو ریزی اور قتل کرنے والے مجرموںکی حمایت میں ریلی نکالی تھی ۔