ملک بھر میں جنگی بنیادوں پر چھوٹے ڈیم بنانے کا سلسلہ شروع کیا جائے، ڈاکٹر مرتضیٰ مغل

اتوار جون 18:50

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ پانی کا بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے۔۔پانی کی کمی نے زراعت و صنعت کے علاوہ ملکی آبادی کوبھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے اور یہ ملک کا سب سے اہم معاملہ بن گیا ہے ۔ملک کو بتدریج ریگستان بنایا جا رہا ہے مگر پالیسی ساز موجودہ نازک صورتحال سے لا تعلق نظر آتے ہیں۔

پانی کے بغیر ملکی ترقی کیلئے اٹھائے گئے تمام اقدامات لاحاصل ہیں جبکہ فوڈ سیکورٹی کے مسئلے پر فسادات ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی شہروں کی جانب نقل مکانی کے رجحان موسمیاتی تبدیلیوں واٹر مینیجمنٹ میں ناکامی اور سب سے بڑھ کر دشمن ملک بھارت کی سازشوں نے پانی کی دستیابی کی صورتحال کوانتہائی تشویشناک بنا دیا ہے جس سے ملک قحط کی جانب بڑھ رہا ہے۔

(جاری ہے)

ایک وقت میں پاکستان پانی کی دولت سے مالا مال تھا ۔1990سے ملک میں پانی کی دستیابی کم ہوتی گئی جو 2005سے شدت اختیار کر گئی ہے مگر پالیسی ساز اس معاملہ پر سنجیدہ نہیں ہوئے۔انھیں ملک میں پانی کی کمی سے مضمرات کے بارے میں مسلسل بنایا جاتا رہا مگر کسی کے کان پر جون تک نہیں رینگی جس سے ملک میں فی کس پانی کی دستیابی کم ہوتی چلی گئی اوراب عوام، کاشتکاروں اور صنعتی سعبہ کیلئے پانی کا حصول مشکل ہو گیا ہے۔

تربیلا ڈیم کی تعمیر کے بعد عالمی بینک نے پاکستان میں ہر دہائی میںایسا ایک ڈیم بنانا ضروری قرار دیا تھا مگر اس مشورے کو مسلسل نظر انداز کیا گیا جس کا نتیجہ اب قوم بھگت رہی ہے۔ اب پاکستان پانی کی کمی کے شکار ممالک میں تیسرے نمبر پر آ گیا ہے جہاں فی کس پانی کی دستیابی ایک ہزار مکعب میٹر سے بھی کم ہو گئی ہے جو 2009 میں 1500 مکعب میٹر تھی۔ انھوں نے کہاکہ اگر اب بھی صورتحال کی سنگینی کو محسوس نہ کیا گیا تو ہماری عوام، زراعت اور صنعت پر منفی اثرات مرتب ہونگے اور ملک میں سنگین سیاسی بحران جنم لے گا جسے حل کرنا ناممکن ہو گا۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ متنازعہ کا لاباغ ڈیم سے ایک قدم آگے بڑھ کر ملک بھر میں جنگی بنیادوں پر چھوٹے ڈیم بنانے کا سلسلہ شروع کیا جائے۔