جدہ:سعودی خواتین کا تاریخ ساز قدم

گزشتہ روز خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی ختم ہونے کے بعد خواتین نے ڈرائیونگ شروع کر دی

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر جون 11:38

جدہ:سعودی خواتین کا تاریخ ساز قدم
جدہ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔25جُون 2018ء) 24 جُون 2018ء کا دِن سعودی خواتین کے لیے ایک انقلابی اور تاریخ ساز دِن تھا۔ اس دِن سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ پر گزشتہ چار عشروں سے عائد پابندی کا خاتمہ ہو گیا۔خواتین کی ایک بڑی تعداد خوشی اور جوش و جذبے کی کیفیت سے سرشار سڑکوں پر گاڑیاں چلاتی نظر آئیں۔ یقیناًیہ ان کے لیے بڑا اہم دِن تھا۔

اس سے پہلے اگر وہ کسی شو روم میں نظر آتی بھی تھیں تو مقصد اپنے ڈرائیور اور خاوند کے لیے گاڑی خریدنا ہوتا تھا۔ مگر اب کی بار انہوں نے گاڑیاں اس لیے خریدی ہیں کہ وہ اس کی ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان ہو سکیں۔ اتوار کے روز سعودی خواتین نے کار کا سٹیئرنگ سنبھا ل لیا اور اپنی پہلی باضابطہ ڈرائیونگ کے دوران مارکیٹس‘ فوڈ آئٹمز سٹورز اور بچوں کو سکول چھوڑتی اور واپس گھر لے جاتی نظر آئیں۔

(جاری ہے)

اب خواتین کو شاپنگ اور گھر کے انتہائی ضروری کاموں کے سلسلے میں اپنے بھائی‘ والد‘ خاوند یا ڈرائیور پر پُوری طرح منحصر نہیں ہونا پڑے گا۔ماہرین کا خیال ہے کہ خواتین کی ڈرائیونگ کے آغاز سے مُلک کی معیشت میں بے پناہ ترقی ہو گی کیونکہ خواتین مُلک کی افرادی قوت کا بہت بڑا جزو ہیں۔پہلے ڈرائیونگ پر پابندی کی وجہ سے بہت ساری خواتین باہر نکل کر ملازمت یا اپنا کاروبار کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی تھیں۔

مگر اب وہ خاصی حد تک اس فکر سے آزاد نظر آئیں گی۔ کار کمپنیوں کی بھی چاندی ہو گئی ہے۔ کیونکہ خواتین کی بڑی تعداد نے اپنی پسند کی گاڑیاں خریدنے کے لیے شو رومز کا رُخ کیا ہے۔ گاڑیاں فروخت کرنے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ مملکت میں خواتین کی تعداد 10 لاکھ سے زائد ہے۔ ڈرائیونگ پر سے پابندی ہٹنے کے بعد خواتین کی جانب سے گاڑیوں کی خرید میں بہت اضافہ ہوا ہے۔

اسی بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے شو رومز میں خواتین کی بڑی تعداد کو ملازمت دی جا رہی ہے تاکہ سعودی خواتین سیلز گرل کی موجودگی میں بِنا کسی ہچکچاہٹ کے گاڑی کا معائنہ کر سکیں اور اس کے تکنیکی پہلوؤں کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔ کار کمپنیوں کی جانب سے سوشل میڈیا اور اخباروں میں تشہیری مہم کے ذریعے بھی خواتین کو مخصوص برانڈز کی گاڑیاں خریدنے کی جانب مائل کیا جا رہا ہے۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ خواتین کی ڈرائیونگ شروع ہونے کے بعدرواں برس گاڑیوں کی فروخت چار لاکھ کے ہندسے کو عبور کر لے گی۔ اس لحاظ سے سعودی مملکت میں گاڑیوں کی تعداد میں دس فیصد کا بڑا اضافہ دیکھنے کو مِلے گا۔