جیمز میٹس شمالی کوریا سے امریکی فوجیوں کی باقیات واپس ملنے کے حوالے سے پر امید

جنوبی کوریا میں اقوام متحدہ کی فورسز ان باقیات کو وصول کرنے کے واسطے تیار ہیں،امریکی وزیردفاع

پیر جون 15:30

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے ان امریکی فوجیوں کی باقیات جلد حوالے کر دی جائیں گی جو 1950 سے 1953 کے درمیان کوریا کی جنگ کے دوران مارے گئے تھے۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی وزیر دفاع نے بتایا کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے 12 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں اس امر کا عہد کیا تھا۔

میٹس کے مطابق جنوبی کوریا میں اقوام متحدہ کی فورسز ان باقیات کو وصول کرنے کے واسطے تیار ہیں۔ امریکی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم اس حوالے سے پر امیدہیں کہ حوالگی کا عمل شروع ہو جائے گا۔سنگاپور معاہدے کی چوتھی شِق کے مطابق امریکا اور شمالی کوریا نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ جنگی قیدیوں اور جنگ میں مارے جانے والے فوجیوں کی باقیات حاصل کریں گے اور جن لوگوں کی شناخت ہو چکی ہے انہیں فی الحال ان کے ملکوں کو واپس کیا جائے۔

(جاری ہے)

چند روز قبل پینٹاگون نے کوریا کی جنگ میں لاپتہ ہونے والوں کے حوالے سے ایک یادداشت جاری کی تھی جس میں بتایا گیا کہ "شمالی کوریا کے ذمے داران کا کہنا ہے کہ ان کو گزرے سالوں کے دوران 200 افراد کی باقیات ملی ہیں"۔کوریا کی جنگ کے دوران جزیرہ نما کوریا میں 35 ہزار سے زیادہ امریکی فوجی مارے گئے تھے۔ اس جنگ کا اختتام کسی امن معاہدے کے ذریعے نہیں بلکہ جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ہوا تھا۔

پینٹاگون کے مطابق مذکورہ فوجیوں میں 7700 ابھی تک لاپتہ شمار کیے جاتے ہیں جن میں 5300 شمالی کوریا میں ہیں۔۔واشنگٹن اور پیونگ یانگ کے درمیان طے پائے گئے ایک سابقہ معاہدے کے تحت 1990 سے 2005 کے درمیان امریکا کو 229 فوجیوں کی باقیات واپس ملیں۔ تاہم اس معاہدے کے اثرات دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بگڑنے سے منجمد ہو گئے۔