قوم کے پیسے واپس نہ لا سکے تو کرسی پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔چیف جسٹس

معاف کرانے والے 25 فیصد پرنسپل رقم ادا کریں، یہ پیشکش قبول نہ کرنے والوں کے مقدمات بینکنگ کورٹس بھجوا دیں گے۔ریمارکس

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل جون 17:50

قوم کے پیسے واپس نہ لا سکے تو کرسی پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔چیف جسٹس
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔26 جون۔2018ء) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ اگر قوم کے پیسے واپس نہ لا سکے تو کرسی پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔۔چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قرضہ معافی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہم قرض معافی سے متعلق تمام 222 مقدمات بینکنگ کورٹس کو بھجوا دیتے ہیں، بینکنگ کورٹس خود جائزہ لیں گی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ہم خود کوئی مارک اپ طے کریں، تمام فریقین کو ایک موقع فراہم کرتے ہیں۔دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ قرض معاف کرانے والے 25 فیصد پرنسپل رقم ادا کریں، یہ پیشکش قبول نہ کرنے والوں کے مقدمات بینکنگ کورٹس بھجوا دیں گے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بینکنگ کورٹس کو 6 ہفتوں میں مقدمات کا فیصلہ کرنے کی ہدایت دیں گے، اس کے علاوہ 25 فیصد قرض معافی کی رقم سپریم کورٹ کا اکاﺅنٹ کھول کر 3 ماہ میں جمع کرانے کا حکم دیں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قرض معاف والی رقوم صوابدیدی فنڈز میں نہیں جانیں دیں گے، بریف کیس میں ڈال کر کیش کی صورت میں یہاں لے آئیں۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس قوم نے بڑے قرض اتارنے ہیں، ہم نے قوم کے پیسے واپس لانے ہیں، خود نمائی مقصد نہیں ہے۔بعد ازاں عدالت نے کیس سے متعلق سماعت کل (27 جون ) تک ملتوی کردی۔خیال رہے کہ اس سے قبل سماعت میں چیف جسٹس نے 222 کمپنیوں سے ایک ہفتے میں تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ اگر قوم کے پیسے واپس نہ کیے تو معاملہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے حوالے کردیں گے اور قرض نادہندگان کی جائیدادیں بھی ضبط کرلی جائیں گی۔