سی این جی اسٹیشنز کو غیر قانونی لائسنس کیس کی سماعت

مشرف کیس میں ایک عبوری حکم کو ایشو بنایا گیاحتمی حکم کے بعد عبوری احکامات غیر موثر ہو جاتے ہیں،چیف جسٹس کے ریمارکس وزیر اعظم نے لائیسنس جاری کرنے کے احکامات جاری کئے تھے،اوگرا کیجانب سے وزیراعظم کے احکامات پر عملدرآمد سے پہلے عدالت نے حکم امتناعی جاری کر دیا تھا، وکیل اوگرا کا موقف

منگل جون 21:21

سی این جی اسٹیشنز کو غیر قانونی لائسنس کیس کی سماعت
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) چیف جسٹس آف پاکستان نے سی این جی اسٹیشنز کو غیر قانونی لائسنس کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مشرف کیس میں ایک عبوری حکم کو ایشو بنایا گیاحتمی حکم کے بعد عبوری احکامات غیر موثر ہو جاتے ہیں، منگل کے روز چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سی این جی اسٹیشنز کو غیر قانونی لائیسنس فراہمی کیس کی سماعت کی۔

(جاری ہے)

سماعت کے دوران وکیل اوگرا افتخار گیلانی نے موقف اپنایا کہ وزیر اعظم نے لائیسنس جاری کرنے کے احکامات جاری کئے تھے،اوگرا کیجانب سے وزیراعظم کے احکامات پر عملدرآمد سے پہلے عدالت نے حکم امتناعی جاری کر دیا تھا،جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعظم کو ایسا حکم جاری کرنے کا اختیار حاصل تھا،جس کے جواب میں ڈپٹی اٹارنی جنرل نے اوگرا آرڈیننس کے تحت وفاقی حکومت پالیسی گائڈ لائن دے سکتی ہے،حکومت کی ہدایات کے تحت اوگرا سی این جی لائسنسوں کا اجرائ بورڈ کے فیصلے کے مطابق ہی کرے گی، عدالت نے اوگرا کو قانون کے مطابق کام کرنے کی ہدایت کرتیہوئیکیس کو نمٹا دیا، وکیل اوگرا نیحکم امتناع کو ختم کرنے کی استدعا کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو یہ نہیں معلوم جب کیس حتمی طور پر نمٹا دیا جائے تو تمام عبوری احکامات ختم ہو جاتے ہیں، مشرف کیس میں ایک عبوری حکم کو ایشو بنا دیا گیا۔