نواز شریف کی اڈیالہ میں والدہ سے ملاقات، شہباز شریف کو دور کھڑے رہنے کی ہدایت کر دی

شہباز شریف کو کی گئی نواز شریف کی اس ہدایت سے ناراضگی کا پہلو عیاں

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ جولائی 11:13

نواز شریف کی اڈیالہ میں والدہ سے ملاقات، شہباز شریف کو دور کھڑے رہنے ..
راولپنڈی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 20 جولائی 2018ء) : سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مریم نواز سے گذشتہ روز شریف خاندان کے افراد اور ن لیگی رہنماؤں نے ملاقات کی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق نواز شریف نے اڈیالہ جیل میں اپنی والدہ سے ملاقات کی لیکن اپنے بھائی شہباز شریف کو پاس کھڑے کرنے کی بجائے دور کھڑے رہنے کی ہدایت کی جس سے ان کی بھائی سے ناراضگی جھلک رہی تھی۔

نواز شریف کی لاہور آمد پر شہباز شریف اور لیگی کارکنوں کی کوئی بھی ریلی لاہور ائیر پورٹ قائد کے استقبال کے لیے نہ پہنچ سکی۔ جس پر نواز شریف اور مریم نواز شہباز شریف ، حمزہ شہباز اور دیگر رہنماؤں سے ناراض ہیں۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف نے جمعرات کے روز خاندان سمیت 30 افراد سے ملاقات میں صرف جیل انتظامیہ کی طرف سے فراہم کی جانے والی ناکافی سہولتوں کا ذکر ہی کیا۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف لاہور ائیر پورٹ آمد پر پارٹی کارکنوں سے خطاب کے بعد نیب لاہور آفس کو باوقار طریقے سے گرفتاری دینا چاہتے تھے تاہم شہباز شریف اور لاہور میں موجود پارٹی رہنماؤں نے نواز شریف کے اس منصوبے پر پانی پھیر دیا جس پر وہ ابھی تک نالاں ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق نواز شریف نے ملاقات میں اپنے اہل خانہ اور ن لیگی رہنماؤں کو جیل میں فراہم کی جانے والی سہولتوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ دہشت گردی کے مرتکب مجرموں والا سلوک کیا جا رہا ہے ۔

نواز شریف کو گھر کے کھانے کی فراہمی کے لئے معروف بزنس مین چودھری منیر نے اڈیالہ جیل کے ملحقہ علاقے میں ایک کوٹھی کرائے پر حاصل کر لی تاہم نواز شریف کو جیل کی اعلیٰ انتظامیہ کی ہدایت پر ان کے گھر سے آنے والے کھانے کو باسی ہونے پر دئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف کو جیل مینوئل کے مطابق بعض سہولتیں ابھی تک فراہم نہیں کی گئیں جن میں ٹی وی اور اخبار شامل ہیں۔

نواز شریف اپنی گرتی صحت سے کافی حد تک پریشان ہیں جبکہ انہیں دوسری پریشانی مریم نواز کی لاحق ہے ۔ ملاقات کے دوران بھی وہ مضحمل نظر آئے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق جو پارٹی رہنما اچھے دنوں میں نواز شریف کے دائیں بائیں کھڑے رہتے تھے اور ان کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے وہ ابھی تک اڈیالہ جیل کے پاس سے بھی نہیں گزرے جس سے نواز شریف کافی مایوس ہوئے ہیں ۔