بلوچستان کی پسماندگی اور احساس محرومی کو استعمال کرکے معصوم لوگوں کو ورغلا کر پہاڑوں پر بھیجا گیا، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان

منگل ستمبر 21:24

بلوچستان کی پسماندگی اور احساس محرومی کو استعمال کرکے معصوم لوگوں ..
کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 ستمبر2018ء) وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا کہ بلوچستان کی پسماندگی اور احساس محرومی کو استعمال کرکے یہاں کے معصوم لوگوں کو ورغلا کر پہاڑوں پر بھیجا گیا اور ملک دشمن عناصر نے انہیں ریاست کے خلاف استعمال کیا، دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ بڑی حد تک اس کی ذمہ داری حکمرانوں پر بھی عائد ہوتی ہے جنہوں نے عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں اپنا کردار اد نہیں کیا جس سے بلوچستان کے عوام میں یہ تاثر اجاگرہوا کہ حکومت اور ریاست ان کے مسائل کے حل میں سنجیدہ نہیں۔

موجودہ حکومت ماضی میںہونے والی ان تمام کوتاہیوں کا ازالہ کرتے ہوئے یہاں کے عوام کی زندگیوں میں آسودگی اور بہتری لانے کے لئے بھرپور اقدامات کرے گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے یہ بات منگل کوبلوچستان اسمبلی کے سبزہ زارپر فراریوں کے ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہونے کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ، قائم مقام اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی سردار بابر خان موسیٰ خیل، صوبائی وزراء،سردار صالح محمد بھوتانی، نوابزادہ طارق مگسی، میر سلیم کھوسہ ،میر نصیب اللہ مری، حاجی میٹھا خان کاکڑ ،حاجی نور محمد دمڑ، اراکین صوبائی اسمبلی،محمد خان لہڑی،نوابزادہ گہرام بگٹی،سردار یار محمد رند اور اعلیٰ حکام بھی تقریب میں شریک تھے۔

اس موقع پر 265 فراریوں نے ہتھیار ڈالتے ہوئے آئین پاکستان کے تحت قومی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج مہمان خصوصی ہم نہیں بلکہ وہ سب ہیں جو ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہورہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ اگر ماضی میں بلوچستان کی پسماندگی اور احساس محرومی کے خاتمے کے لئے سنجیدہ اقدامات کئے جاتے تو صورتحال اس حد تک ابتر نہ ہوتی، انہوں نے کہا کہ ایک عام آدمی غربت وافلاس اور اپنے بچوں کے مستقبل کا سوچ کر مایوسی کا شکار ہوسکتا ہے اس کی تمام امیدیں ریاست سے وابستہ ہوتی ہیں، اگر حکومت اس کے دکھوں کا مداوا نہیں کرتی تو وہ مجبوراً ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں استعمال ہوجاتا ہے، وزیراعلیٰ نے کہا ہم سب سے دانستہ وغیردانستہ غلطیاں بھی ہوئی ہیں اور غیر ذمہ دارانہ رویہ بھی رہا ہے تاہم ہم بلوچستان کے لوگوں کو ایک مثبت تبدیلی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔

ہمارے وزراء، اراکین اسمبلی اور تمام عوامی نمائندگان جو آج یہاں موجود ہیں اور جو موجود نہیں سب اس بات پر متفق ہیں کہ ہم نے اپنے لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانا ہے آج اگر ہم اقتدار میں ہیں تو یہ عوام ہی کی مرہون منت ہے جنہوں نے ہمیں ووٹ دے کر اسمبلیوں میں بھیجا۔ ہم نظام میں ایسی تبدیلی لائیں گے جس سے نظام پر عوام کا اعتماد بحال ہوگاوزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام نے ہمیں بہت بڑی ذمہ داری دی ہے اورہم اللہ تعالیٰ سے دعا گوہیں کہ وہ ہمیں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی ہمت اور توفیق دے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان اس وقت تک تبدیل نہیں ہوسکتا جب تک بلوچستان کے لوگوں کی سوچ میں تبدیلی نہیں آجاتی اور نہ ہی لوگوں کا ذہن بنے بغیر ترقی اور بہتری اتنی جلدی آسکتی ہے جس کا لوگ سوچ رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری کارکردگی اور ذمہ داری کی ادائیگی کا دارومدار عوام پر بھی ہے کیونکہ قوموں میں تبھی تبدیلی آتی ہے جب وہ اپنے اندر تبدیلی لانے کاجذبہ پیدا کرتے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج کا دور ہم سیاسی لوگوں کے لئے اتنا آسان نہیں جتناہم سمجھ رہے ہیں۔ آج بلوچستان کا ہر فرد بہت سی معلومات رکھتا ہے کہ اس کے صوبے میں کیا ہورہا ہے، حکومت، وزیر اور رکن اسمبلی پسماندگی کے خاتمے کے لئے کیا کررہے ہیں، دوسرے علاقوں میں ترقی کیسی ہے اور جس علاقے میں وہ رہتا ہے اس کے کیا مسائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے بلوچستان کی بہتری کے لئے بہت سی باتیں کی ہیں اور ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بلوچستان کو ہر حال میں اور ہر لحاظ سے بہتر کرکے اداروں اور حکومت پر عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان صحت، تعلیم، روزگار اور پینے کے پانی تک سے محروم ہے، اگر ہم نے ان مسائل کا حل نہ ڈھونڈا تو شاید ہم اس مقام پر کھڑے نہیں ہوں گے جس کا ہم نے عوام سے وعدہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ عوام ہم سے ہیں اورہم عوام سے ہیں۔

عوام خوشحال ہوں گے تو ہماری خوشحالی ہوگی۔لوگ ترقیافتہ ہوں گے تو بلوچستان ترقیافتہ ہوگا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہرفرد اپنے خاندان کے مستقبل کا سوچتا ہے، اپنے بچوں کی تعلیم، صحت اور روزگار اس کی اولین ترجیح ہے، اگر یہ سب سہولتیں میسر ہوں گی تو نہ کوئی پہاڑ پر رہے گا اور نہ ہی کسی کے ورغلانے میں آئے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ انشاء اللہ وہ دن ضرور آئے گا کہ بلوچستان ماضی کے بلوچستان سے بہت بہتر ہوجائے گا۔

انہوں نے کہاکہ کوئی انسان کمزور نہیں ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے بھرپور صلاحیتیں دی ہیں، جنہیں وہ سماجی نظام کی بہتری کے لئے بروئے کار لاسکتاہے۔ قومی دھارے میں شامل ہونے والے افراد بھی معاشرے کے ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے اپنی صلاحتیں ملک اور صوبے کی بہتری کے لئے بروئے کار لائیں اوراپنے خاندان اور اپنے علاقے کی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ آنے والے پانچ سال بہت مختلف ہوں گے کیونکہ ہمارا نوجوان تعلیم یافتہ ہورہا ہے اورمعاشرے کی پہچان رکھتا ہے، ہم اور ہمارے اتحادی سیاسی لوگ ہیں اور سیاسی ومعاشی چیلنجزکوسمجھتے ہوئے ان سے عہدہ برا ہونے کی صلاحیت اور عزم رکھتے ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری عزت اور وقار اس ملک اور اس صوبے سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ہر نعمت سے نوازا ہے، ہم دنیامیں کہیں بھی چلے جائیں پاکستان ہی ہماری پہچان ہے، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم قدرت کی عطا کردہ نعمتوں کو اپنے عوام کے لئے منصفانہ طور پر استعمال میں لائیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم ایسا طریقہ کار اور پالیسی اپنائیں گے کہ صوبے کے وسائل سے یہاں کا ہر فرد یکساں طور پر مستفید ہوسکے۔

ہم اللہ تعالیٰ اور عوام کے سامنے جواب دہ ہیں جس میں ہم سرخرو ہونا چاہتے ہیںوزیراعلیٰ نے قومی دھارے میں شامل ہونے والوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ریاست ان کی فلاح وبہبود کے لئے اپنا کردار ادا کرے گی اور جس جذبہ ،عزم اور امیدوں کے ساتھ وہ قومی دھارے میں شامل ہوئے ہیں انہیں کبھی مایوس نہیں کیاجائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکمران کے طور پر بھی اور ایک بلوچستانی ہونے کے ناطے بھی ہماری ذمہ داری ہے کہ عوام کو زندگی کی بنیادی سہولیتں دے کر ان کی ناراضگی ختم کریں انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر عوام کو ورغلانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، وہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کی کوشش ضرور کریں گے لیکن ہم صوبے سے احساس محرومی اور پسماندگی کے خاتمے کے ذریعہ انہیں کامیاب نہیں ہونے دیںگے۔

تقریب میں ہتھیار ڈالنے والے فراری کمانڈروں نے اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان کے آئین کے اندر رہتے ہوئے ملک اور صوبے کی ترقی میں کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔ اس موقع پر کمسن بچوں نے ہتھیار ڈالنے والوں کو قومی پرچم اور پھول پیش کئے۔