سپریم کورٹ ،ْ فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ مزید 3 ملزمان کی سزائے موت معطل

بدھ ستمبر 19:11

سپریم کورٹ ،ْ فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ مزید 3 ملزمان کی سزائے موت معطل
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 ستمبر2018ء) سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ مزید تین ملزمان کی سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کا حکم دے دیا۔گزشتہ روز جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فوجی عدالتوں سے سزایافتہ ملزمان کی اپیلوں پر سماعت کی۔فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ ملزمان طاہر علی ،ْحبیب الرحمن اور سیف اللہ کو 2009 میں خیبرپختونخوا کے علاقے میں دو فوجی اہلکاروں کو قتل کرنے کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔

ملزمان کی سزاؤں کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی تاہم ہائی کورٹ کی جانب سے اپیل مسترد کیے جانے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا۔عدالت نے سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرتے ہوئے فوجی عدالت کا فیصلہ معطل کرنے کے احکامات سنائے اور وزارت داخلہ کو نوٹس بھی جاری کردیا۔

(جاری ہے)

بعد ازاں سپریم کورٹ نے اپیلوں پر آئندہ سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

گزشتہ روز سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کی جانب سے 4 ملزمان کی سزائے موت پر عملدرآمد عبوری طور پر روکتے ہوئے ملزمان کی اپیلوں کو یکجا کر کے اس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔ملزمان میں شیر محمد، عبدالمجید پر سوات میں سرکاری سکول پر حملے کا الزام تھا جبکہ اسرار احمد نامی ملزم پر پی ٹی ڈی سی ہوٹل پر حملے کا الزام ہے اور چوتھے ملزم محمد عمر کا تعلق بٹ گام سے ہے۔