وزیراعظم اور گورنر ہاؤسز کے بعد ریڈیو اور پی ٹی وی اکیڈمی کی عمارتوں میں بھی یونیورسٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت کے اس فیصلے پر ریڈیو اور پی ٹی وی اکیڈمی کے ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات ستمبر 11:11

وزیراعظم اور گورنر ہاؤسز کے بعد ریڈیو اور پی ٹی وی اکیڈمی کی عمارتوں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 20 ستمبر 2018ء) : وفاقی حکومت نے وزیراعظم ہاؤس کو اعلیٰ درجے کی یونیورسٹی بنانے کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ گورنر ہاؤسز کو بھی عوام کے لیے کھول دیا گیا ۔ تاہم اب وفاقی حکومت نے ریڈیو اور پی ٹی وی اکیڈمی میں بھی یونیورسٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے ان اکیڈمیز کے ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

قومی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے وزیر اعظم ہاؤس کے بعد ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) اکیڈمی کی عمارتوں میں بھی یونیورسٹیاں قائم کرنے اورریڈیو پاکستان ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کی کثیرالمنزلہ عمارت کو طویل مدت کے لیے لیز پر دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے تمام شعبے پاکستان براڈکاسٹنگ اکیڈمی کی چھوٹی عمارت میں منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

(جاری ہے)

جس سے ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے ریڈیو پاکستان کی عمارت کو لیز پر دینے کی تیاریاں کر لی ہیں۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے پاکستان براڈ کاسٹنک کارپوریشن کی بلڈنگ کو لیز پر دینے کے لیے پروپوزل بھی طلب کر لیا ہے ۔ اس حوالے سے باقاعدہ لیٹر بھی جاری کیاگیا جس پر عملدرآمد کے حوالے سے ریڈیو پاکستان میں اجلاسوں کا انعقاد اور غورشروع کردیا گیا ہے ۔

ریڈیو پاکستان کی ریڈزون میں سیکٹر جی فائیو میں موجود عمارت 7 منزلوں پر مشتمل ہے جس میں مختلف شعبے قائم ہونے کے ساتھ ساتھ حساس آلات بھی نصب ہیں۔اتنا اہم ادارہ ہونے کے ناطے ریڈزون میں اس کی سکیورٹی کرنا بھی انتہائی آسان ہے تاہم اب حکومت نے اس کے تمام شعبے سیکٹر ایچ نائن میں قائم پاکستان براڈ کاسٹنگ (پی بی اے ) کی چھوٹی عمارت میں منتقل کرکے ہیڈکوارٹرز کی عمارت طویل مدت کے لیے لیز پر دینے کا فیصلہ کی اہے اور اس سلسلے میں ڈائریکٹر منسٹرز آفس دانیال گیلانی کے دستخطوں سے جاری ایک نوٹیفکیشن میں ادارے کو لیز کرنے کے حوالے سے تجاویز بھی طلب کر لی ہیں۔

حکومت کے اس اچانک اور عجیب فیصلے پر ادارے کے ملازمین نے اس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ عملی طور پر اتنی حساس عمارت کو انتہائی غیر محفوظ اور چھوٹی سی عمارت میں منتقل کرنا ناممکن ہے ۔ دوسری جانب تجزیہ کاروں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قومی نشریاتی ادارے کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی سازش ہے ۔ ریڈیو پاکستان وہ قومی نشریاتی ادارہ ہے جس نے سب سے پہلے ریاست پاکستان کے قیام کی خوشخبری سنائی تھی۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری کا کہنا ہے کہ ریڈیو پاکستان ہیڈکوارٹرز کی کثیرالمنزلہ عمارت کی طرح دیگر سرکاری عمارتوں کو بھی لیز پر دیا جائے گا ۔ وزارت منصوبہ بندی کے مشورہ سے پی ٹی وی اکیڈمی میں یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا، ریڈ زون میں واقع پی ٹی وی کی عمارت کے حوالے سے لیز کا کوئی ارادہ نہیں ۔ ریڈیو پاکستان کی عمارت 1950ء میں بنائی گئی ، اس دور میں بڑی مشینری استعمال ہوتی تھی ، موجودہ دور میں ریڈیو کو ایک کمرے سے بھی چلایا جا سکتا ہے ۔

اس وقت ملک کو ریسرچ انسٹیٹیوشنز کی ضرورت ہے ۔ ریڈیو پاکستان کی عمارت میں پاک میڈیا یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ ریڈیو پاکستان کی تنظیم نو کے حوالے سے ڈاکٹر عشرت حسین کام کر رہے ہیں ۔جب تک بین لاقوامی معیار کی یونیورسٹی قیام عمل میں نہیں لایا جاتا ہم دوسروں پر انحصار کریں گے ۔