چینی کمپنی کا بلوچستان کے معدنی وسائل کو ترقی دینے میں دلچسپی کااظہار

کمپنی کا انضمام سینڈک منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی کیساتھ ہوگیا، معیشت بہتر ہوگی ، روزگار بھی ملے گا ، کمپنی صدر روینگ جِنچینگ کی وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات میں گفتگو چینی کمپنی کو بلوچستان کے معدنی وسائل کی ترقی کے حوالے سے موثر منصوبہ بندی ضرور پیش کرنی چاہیے، جام کمال

جمعرات ستمبر 14:50

چینی کمپنی کا بلوچستان کے معدنی وسائل کو ترقی دینے میں دلچسپی کااظہار
کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 ستمبر2018ء) چینی ریسرچ اور سرمایہ کار کمپنی ٹونگسِن ریسورس لمیٹڈ نے بلوچستان کے معدنی وسائل کو ترقی دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔وزیراعلی بلوچستان جام میر کمال خان علیانی سے ہونے والی ایک ملاقات میں کمپنی کے صدر وینگ جِنچینگ نے صوبے کے قدرتی وسائل دریافت کرنے کی پیشکش کی۔انہوں نے وزیراعلی کو بتایا کہ ان کی کمپنی کا انضمام سینڈک منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی کے ساتھ ہوگیا ہے، اور انہوں نے صوبائی حکومت سے سینڈک منصوبے میں توسیع کرنے کی اجازت طلب کی جس سے نہ صرف صوبے کی معیشت بہتر ہوگی بلکہ مقامی لوگوں کو روزگار بھی ملے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری کمپنی متعدد ممالک میں معدنی ذخائر کی تلاش کا کام کررہی ہے اور دنیا بھر میں 50 ارب ڈالر مالیت کے اثاثوں کی مالک ہے۔

(جاری ہے)

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایم سی سی چینی حکومت کو تجویز دے گی کہ معدنی پارک کے قیام میں بلوچستان کو بھی شامل کیا جائے، اس کے ساتھ انہوں نے صوبے کے محکمہ معدنی وسائل کو ڈیٹا بیس بنانے میں معاونت فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی۔

اس موقع پر وزیراعلی نے بلوچستان کے معدنی ذخائر میں دلچسپی لینے پر چینی کمپنی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات ہر گزرتے دن کے ساتھ فروغ پا رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی عوام ترقیاتی کاموں میں تعاون کرنے پر چینی حکومت کے کوششوں کو سراہتے ہیں، بدقسمتی سے معدنی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود اس شعبے کو مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے کے سبب قدرتی وسائل دریافت کرنے اور انہیں ترقی دینے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

وزیراعلی بلوچستان کا مزید کہنا تھا کہ چینی کمپنی کو بلوچستان کے معدنی وسائل کی ترقی کے حوالے سے موثر منصوبہ بندی ضرور پیش کرنی چاہیے اس کے ساتھ انہوں نے ایم ایم سی کو یقین دہانی کروائی کہ ان کی حکومت اس سلسلے میں بھرپور تعاون کرے گی۔دوسری جانب صوبے میں چینی کمپنیوں اور انجینئروں کی سیکیورٹی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کا مقررہ راستہ محفوظ ہے کیوں کہ پاک فوج، ایف سی، پولیس اور لیویز سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے سی پیک منصوبوں کی حفاظت کررہے ہیں۔