پاکستان کے ساتھ محبت کرو سارے مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے‘

ایمانداری کو اپنا شعار بنائو اور ہمیشہ ضرورت مند اور کمزوروں کی مدد کرو تو کامیابی آپ کے قدم چومے گی چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کا ڈسٹرکٹ بار چترال سے خطاب

ہفتہ ستمبر 23:13

پاکستان کے ساتھ محبت کرو سارے مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے‘
چترال/ اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 ستمبر2018ء) چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ محبت کرو سارے مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے‘ ایمانداری کو اپنا شعار بنائو اور ہمیشہ ضرورت مند اور کمزوروں کی مدد کرو تو کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔ انہوں نے ان حیالات کا اظہار ہفتہ کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن چترال کے اراکین سے خطاب کے دوران کیا۔

چیف جسٹس نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کا بھی دورہ کیا جہاں مریضوں کی عیادت کی اور عوام میں گھل مل گئے۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ایک بچی کو سو روپے بھی دیئے۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈاکٹر رحمت اللہ آفریدی سے ہسپتال کے مسائل پوچھے اور ان کے حل کی ہدایت کی۔

(جاری ہے)

بعد ازاں چیف جسٹس نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کا دورہ کیا ۔

اس موقع پر فاضل جج صاحبان نے ان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس سے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے اراکین نے بھی ملاقات کی اور ان کو روایتی تحائف چترالی ٹوپی اور چوغہ بھی پیش کیا گیا۔ عبدا لولی خان ایڈوکیٹ نے اپنے حیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چترال سے نکلنے والا دریا افغانستان میں داخل ہوتا ہے جہاں کابل سے بہت کم پانی اس میں شامل ہوتا ہے مگر اس کا نام دریائے کابل رکھا گیا ہے اس کا نام دریائے چترال رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ چترال کے علاقوں بونجی اور دروش میں عدالتی عملہ کی کمی کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر خورشید حسین مغل نے چیف جسٹس کا استقبال کیا اور مطالبہ کیا کہ چترال ہائی کورٹ سرکٹ بنچ میں مستقل جج تعینات کیا جائے تاکہ عوام کو سوات اور پشاور نہ جانا پڑے۔ ڈسٹرکٹ بار کے اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ چترال میں سروس ٹریبونل کا مسئلہ بھی بہت جلد حل کیا جائے گا اور دریائے کابل کا نام تبدیل کرنے پر بھی غور کیا جائے گا۔

انہوںنے کہا کہ بنچ اور بار ایک ہی جسم کے دو حصے ہیں اگر ایک حصہ دوسرے کا ساتھ نہ دے تو معذور کہلاتا ہے اور ہم خود کو معذور نہیں کرنا چاہتے۔ انہوںنے چترالی عوام کو سراہتے ہوئے کہا کہ جب وہ بذریعہ سڑک دیر سے چترال آرہے تھے تو ہر دکان کے شٹر پر پاکستان کا جھنڈا بنا ہوا دیکھا جو ملک سے محبت اور وفاداری کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے محبت کرو تو کامیاب ہوجاؤگے۔

انہوںنے کہا کہ ہم سب نے مل کر اس ملک کو بچانا ہے اور آج ہم اس دوراہے پر کھڑے ہیں کہ ملک کو ہماری زیادہ ضرورت ہے ۔ بھاشا اور مہمند ڈیمز کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی بقاء اور آئندہ نسل کیلئے پانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی ہماری زندگی کی علامت ہے جسے ہم اپنے ہاتھوں سے ضائع کر رہے ہیں۔ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج ہم بیرونی قرضوں تلے دبے ہوئے ہیں اور ہمارا ہر بچہ ایک لاکھ سترہ ہزار روپے کا مقروض ہے۔

انہوںنے کہا کہ آپ ایمانداری سے کام کیں تو حالات تیزی سے بدلیں گے۔ انہوںنے کہا کہ لواری ٹنل بن تو گیا لیکن اسے بہت کم وقت کیلئے مسافروں کیلئے کھولا جاتا ہے اور لوگوں کو بلا وجہ تنگ کیا جاتا ہے۔ جس پر از خود نوٹس لیا ہے اور نیشنل ہائی اتھارٹی کے چیئرمین سے پانچ دن کے اندر جواب طلب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لواری ٹنل سے باہر دونوں جانب سڑک پر خچر لیکر گزرنا بھی مشکل ہے ہم بیسویں صدی میں رہ رہے ہیں مگر سڑکوں کی حالت ایسی ہیں جیسے اب بھی ہم پتھر کے زمانے میں رہ رہے ہیں۔

انہوںنے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قدرے بہتر ہے مگر اس میں مزید بہتری لانا پڑے گی۔ انہوں نے محکمہ صحت کے حکام کو حکم دیا کہ وہ ہسپتالوں میں پیرا میڈیکل سٹاف اور ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کریںتاکہ عوام کی تکلیف کم کی جا سکے۔ انہوں نے محکمہ صحت کو حکم دیا کہ چھ ہفتے کے اندر تمام خالی آسامیاں پر کی جائیں۔ انہوں نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کو فون پر ہدایات دیں کہ چترال میں ججوں کی کمی پوری کی جائے اور بار کا مسئلہ حل کیا جائے۔

چیف جسٹس نے یقین دہانی کرائی کہ ہائی کورٹ سرکٹ بنچ کیلئے بہت جلد جج تعینات کیا جائے گا اور عدالتی عملی کی کمی کو چار ہفتوں میں پورا کیا جائے گا۔ انہوں نے بار ایسوسی ایشن کیلئے فیڈرل جوڈیشل اکیڈیمی میں چترال کے وکلاء کیلئے تربیتی کورس کا اہتمام کرنے کی ہدایت کی۔ مقامی صحافی گل حماد فاروقی نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ چترال ایک پسماندہ ضلع ہے مگر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نے بلوں میں سروس ٹیکس عائد کیا ہے جو زیادتی ہے اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ اس حوالے سے تحریری درخواست دیں تاکہ پی ٹی سی ایل حکام سے جواب طلب کیا جا سکے۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے ضلعی صدر خورشید حسین مغل نے چترال کا دورہ کرنے پر چیف جسٹس کا شکریہ ادا کیا۔